حدیث نمبر: 1434
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قال : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101 فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَ : " صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے آیت کریمہ : «‏ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنكم الذين كفروا» ” تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے “ ( النساء : ۱۰۱ ) ، کے متعلق عرض کیا کہ اب تو لوگ مامون اور بےخوف ہو گئے ہیں ؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے بھی اس سے تعجب ہوا تھا جس سے تم کو تعجب ہے ، تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” یہ ایک صدقہ ہے ۱؎ جسے اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے ، تو تم اس کے صدقہ کو قبول کرو “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری کمزوری اور درماندگی کو دیکھتے ہوئے تمہاری پریشانی اور مشقت کے ازالہ کے لیے بطور رحمت تمہارے لیے مشروع کیا ہے، لہٰذا آیت میں «إن خفتم» (اگر تمہیں ڈر ہو) کی جو قید ہے وہ اتفاقی ہے احترازی نہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1434
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن ابی داود/الصلاة 270 (1199، 1200)، سنن الترمذی/تفسیر النساء 5 (3034)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 73 (1065)، (تحفة الأشراف: 10659) ، مسند احمد 1/25، 36، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1435
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فِي الْقُرْآنِ , فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ : " يَا ابْنَ أَخِي , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا وَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ` انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ ہم قرآن میں حضر کی صلاۃ ۱؎ اور خوف کی صلاۃ کے احکام ۲؎ تو پاتے ہیں ، مگر سفر کی صلاۃ کو قرآن میں نہیں پاتے ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا : بھتیجے ! اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم میں بھیجا ، اور ہم اس وقت کچھ نہیں جانتے تھے ، ہم تو ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۳؎ ۔
وضاحت:
۱؎: قرآن کے سلسلہ میں جو مطلق اوامر وارد ہیں ان کا محمل یہی حضر کی صلاۃ ہے۔ ۲؎: خوف کی صلاۃ کا ذکر آیت کریمہ: «وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا» (النساء: 101) میں ہے۔ ۳؎: اور آپ نے بغیر خوف کے بھی قصر کیا ہے، لہٰذا یہ ایسی دلیل ہے جس سے اسی طرح حکم ثابت ہوتا ہے جیسے قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1435
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 458 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1436
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ لَا يَخَافُ إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِينَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کے لیے نکلے ، آپ صرف رب العالمین سے ہی ڈر رہے تھے ۱؎ ( اس کے باوجود ) آپ ( راستہ بھر ) دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ کسی دشمن کا کوئی خوف نہیں تھا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1436
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (547)، (تحفة الأشراف: 6436) ، مسند احمد 1/215، 226، 255، 345، 362، 369 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كُنَّا نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ لَا نَخَافُ إِلَّا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تھے ، ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوتا تھا ، پھر بھی ہم دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1437
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
حدیث نمبر: 1438
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قال : سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ السِّمْطِ ، قال : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُصَلِّي بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا أَفْعَلُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن سمط کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحلیفہ ۱؎ میں دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا ، تو میں نے ان سے اس سلسلہ میں سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : میں تو ویسے ہی کر رہا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: جو مدینہ سے بارہ کیلو میٹر کی دوری پرہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1438
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 1 (692)، (تحفة الأشراف: 10462) ، مسند احمد 1/29، 30 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1439
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقْصُرُ حَتَّى رَجَعَ فَأَقَامَ بِهَا عَشْرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ جانے کے لیے نکلا تو آپ برابر قصر کرتے رہے یہاں تک کہ آپ واپس لوٹ آئے ، آپ نے وہاں دس دن تک قیام کیا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1439
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/تقصیر ال صلاة 1 (1081)، المغازي 52 (4297) مختصراً، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن ابی داود/الصلاة 279 (1233)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (الجمعة 40) (548)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 76 (1077) ، مسند احمد 3/187، 190، 282، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1551)، ویأتی عند المؤلف فی باب 4 (برقم: 1453) (صحیح)»
حدیث نمبر: 1440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ أَبِي , أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ وَهُوَ السُّكَّرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں دو رکعتیں پڑھیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھیں ، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں ہی پڑھیں ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9458) ، مسند احمد 1/378، 422 (صحیح الإسناد)»
حدیث نمبر: 1441
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عُمَرَ ، قال : " صَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ ، وَالْفِطْرِ رَكْعَتَانِ ، وَالنَّحْرِ رَكْعَتَانِ ، وَالسَّفَرِ رَكْعَتَانِ ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جمعہ کی نماز دو رکعت ہے ، عید الفطر کی نماز دو رکعت ہے ، عید الاضحی کی نماز دو رکعت ہے ، اور سفر کی نماز دو رکعت ہے ، اور بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سب پوری ہیں ، ان میں کوئی کمی نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1441
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 1421 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1442
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ عَائِذٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " فُرِضَتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا ، وَصَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَاةُ الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` حضر ( اقامت ) کی نماز تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر چار رکعتیں فرض ہوئیں ، اور سفر کی نماز دو رکعت ، اور خوف کی نماز ایک رکعت ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت ہے، بعض صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1442
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)»
حدیث نمبر: 1443
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ ، قال : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر حضر ( اقامت ) میں چار رکعتیں ، اور سفر میں دو رکعتیں ، اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب تقصير الصلاة فى السفر / حدیث: 1443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 457 (صحیح)»