حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصَلَّيْتَ " , قَالَ : لَا , قَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ : فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا ، فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ جَاءَ الْآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا فَانْتَهَرَهُ , وَقَالَ : خُذْ ثَوْبَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو ایک آدمی خستہ حالت میں ( مسجد میں ) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نماز پڑھی ؟ “ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” دو رکعتیں پڑھ لو “ ، اور آپ نے ( دوران خطبہ ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا ، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے ، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا ، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا ، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص ( پچھلے ) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا ، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا ، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے ، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا ، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا “ ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا : ” اپنا کپڑا اٹھا لو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جو اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔