حدیث نمبر: 1280
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ وَهُوَ ابْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ السَّلَامُ , فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ : التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ , السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنَ الْكَلَامِ مَا شَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ عزوجل خود سلام ہے ، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( تشہد میں ) بیٹھے تو وہ یوں کہے : «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبركاته السلام علينا وعلى عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ” تمام قولی ، فعلی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی آپ پر سلام ہو ، اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نازل ہوں ، سلامتی ہو ہم پر ، اور اللہ کے نیک بندوں پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں “ پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے جو چاہے دعا کرے “ ۔