کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 897
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ ، قال : أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، قال : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : «إن صلاتي ونسكي ومحياى ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللہم اهدني لأحسن الأعمال وأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت وقني سيئ الأعمال وسيئ الأخلاق لا يقي سيئها إلا أنت» ” بلاشبہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں ، اے اللہ ! مجھے حسن اعمال اور حسن اخلاق کی توفیق دے ، تیرے سوا کوئی اس کی توفیق نہیں دے سکتا ، اور مجھے برے اعمال اور قبیح اخلاق سے بچا ، تیرے سوا کوئی ان برائیوں سے بچا نہیں سکتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 897
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3048) (صحیح)»