کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اذان اور اقامت کے درمیان سنت (نفل نماز) پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ كَهْمَسٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر دو اذان ۱؎ کے درمیان ایک نماز ہے ، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے ، ہر دو اذان کے درمیان ایک نماز ہے ، جو چاہے اس کے لیے “ ۔
وضاحت:
۱؎: ہر دو اذان سے مراد اذان اور اقامت ہے جیسا کہ مؤلف نے ترجمۃ الباب میں اشارہ کیا ہے، اس حدیث سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہو رہا ہے، جس کے لیے دوسرے دلائل موجود ہیں «واللہ أعلم» ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 682
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 14 (624)، 16 (627)، صحیح مسلم/المسافرین 56 (838)، سنن ابی داود/الصلاة 300 (1283)، سنن الترمذی/الصلاة 22 (185) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 110 (1162)، (تحفة الأشراف: 9658)، مسند احمد 4/86 و 5/54، 55، 57، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1480) (صحیح)»
حدیث نمبر: 683
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال : " كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ ، وَيُصَلُّونَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مؤذن جب اذان دیتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ کھڑے ہوتے ، اور ستون کے پاس جانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ، اور نماز پڑھتے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلتے ، اور وہ اسی طرح ( نماز کی حالت میں ) ہوتے ، اور مغرب سے پہلے بھی پڑھتے ، اور اذان و اقامت کے بیچ کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی کرتے کیونکہ اذان اور اقامت میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 683
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصلاة 95 (503)، الأذان 14 (625)، (تحفة الأشراف: 1112)، وقد أخرجہ: مسند احمد 3/280، سنن الدارمی/الصلاة 145 (1481) (صحیح)»