کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: اذان دینے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 671
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے ، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے ، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے ، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے ، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر ، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 671
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد 31 (516)، موطا امام مالک/الالهة 1 (6)، (تحفة الأشراف: 13818)، مسند احمد 2/313، 398، 411، 460، 503، 522، 531، سنن الدارمی/الصلاة 11 (1240) (صحیح)»