حدیث نمبر: 454
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " أَوَّلَ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ابتداء میں دو رکعت نماز فرض کی گئی ، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) باقی رکھی گئی اور حضر کی نماز ( بڑھا کر ) پوری کر دی گئی ۔
حدیث نمبر: 455
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَعْلَبَكِّيُّ ، قال : أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ ، قال : أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ ، أَنَّهُ سَأَلَ الزُّهْرِيَّ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ إِلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَا فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْفَرِيضَةِ الْأُولَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ولید کہتے ہیں کہ ابوعمرو اوزاعی نے مجھے خبر دی ہے کہ` انہوں نے زہری سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا کہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مکہ میں آپ کی نماز کیسی ہوتی تھی ، تو انہوں نے کہا : مجھے عروہ نے خبر دی ہے ، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو رکعت نماز فرض کی ، پھر حضر میں چار رکعت کر کے انہیں مکمل کر دی ، اور سفر کی نماز سابق حکم ہی پر برقرار رکھی گئی ۔
حدیث نمبر: 456
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نماز دو دو رکعت فرض کی گئی ، پھر سفر کی نماز ( دو ہی ) برقرار رکھی گئی ، اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ابن خزیمہ (۱/۱۵۷) اور ابن حبان (۳/۱۸۰) کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے، تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کر دیا گیا، اور فجر اور مغرب کی نماز میں اضافہ اس لیے نہیں کیا گیا کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے اور مغرب دن کی وتر ہے۔
حدیث نمبر: 457
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " فُرِضَتِ الصَّلَاةُ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` نماز بزبان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضر میں چار رکعت ، سفر میں دو رکعت ، اور خوف میں ایک رکعت فرض کی گئی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی خوف کی حالت میں ایک ہی رکعت پر اکتفا کرے تو جائز ہے، کئی ایک صحابہ کرام اور ائمہ عظام اس کے قائل بھی ہیں، حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس کی صراحت بھی ہے۔
حدیث نمبر: 458
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ تَقْصُرُ الصَّلَاةَ ، وَإِنَّمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ سورة النساء آية 101 ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : يَا ابْنَ أَخِي ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَتَانَا وَنَحْنُ ضُلَّالٌ فَعَلَّمَنَا ، فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنَا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنَا أَنْ نُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ " . قَالَ الشُّعَيْثِيُّ : وَكَانَ الزُّهْرِيُّ ، يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے کہ` انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ آپ نماز ( بغیر خوف کے ) کیسے قصر کرتے ہیں ؟ حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : «فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم» ” اگر خوف کی وجہ سے تم لوگ نماز قصر کرتے ہو تو تم پر کوئی حرج نہیں “ ( النساء : ۱۰۱ ) تو ابن عمر رضی اللہ عنہم نے کہا : بھتیجے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت آئے جب ہم گمراہ تھے ، آپ نے ہمیں تعلیم دی ، آپ کی تعلیمات میں سے یہ بھی تھا کہ ہم سفر میں دو رکعت نماز پڑھیں ، شعیثی کہتے ہیں کہ زہری اس حدیث کو عبداللہ بن ابوبکر کے طریق سے روایت کرتے تھے ۔