حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ ، قال : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سعید بن مسیب کہتے ہیں : مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی رات میں اٹھے تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل نہ کرے ، یہاں تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پر پانی ڈال لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کا ہاتھ رات میں کہاں کہاں رہا “ ۔
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں ( جا کر ) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا ، اور نماز ادا کی ، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا ( اس نے آپ کو جگایا ) تو آپ نے ( جا کر ) نماز پڑھی ، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے ۔
حدیث نمبر: 444
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَرْقُدْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں اونگھے تو وہ لوٹ جائے ، اور ( جا کر ) سو جائے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ نیند کے غلبہ سے اس کا وضو ٹوٹ سکتا ہے، اور نماز باطل ہو سکتی ہے۔