أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، قال : حَدَّثَنِي ابْنُ نَافِعٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، " أَنَّ رَجُلَيْنِ تَيَمَّمَا وَصَلَّيَا ثُمَّ وَجَدَا مَاءً فِي الْوَقْتِ فَتَوَضَّأَ أَحَدُهُمَا وَعَادَ لِصَلَاتِهِ مَا كَانَ فِي الْوَقْتِ وَلَمْ يُعِدِ الْآخَرُ ، فَسَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ : أَصَبْتَ السُّنَّةَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلَاتُكَ ، وَقَالَ لِلْآخَرِ : أَمَّا أَنْتَ فَلَكَ مِثْلُ سَهْمِ جَمْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` دو آدمیوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، پھر انہیں وقت کے اندر ہی پانی مل گیا ، تو ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھ لی ، اور دوسرے نے نماز نہیں دہرائی ، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا ، تو آپ نے اس شخص سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا : ” تم نے سنت کے موافق عمل کیا ، اور تمہاری نماز تمہیں کفایت کر گئی “ ، اور دوسرے سے فرمایا : ” رہے تم تو تمہارے لیے دوہرا اجر ہے “ ۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، قال : حَدَّثَنِي عَمِيرَةُ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عطا بن یسار سے روایت ہے کہ` دو آدمیوں نے .... ، پھر یہی حدیث بیان کی ۔
أخبرنا محمد بن عبد الأعلى أنبأنا أمية بن خالد حدثنا شعبة أن مخارقا أخبرهم عن طارق بن شهاب أن رجلا أجنب فلم يصل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " أصبت " . فأجنب رجل آخر فتيمم وصلى فأتاه فقال نحوا مما قال للآخر يعني " أصبت " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ` ایک شخص جنبی ہو گیا ، تو اس نے نماز نہیں پڑھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ٹھیک کیا “ ، پھر ایک دوسرا آدمی جنبی ہوا ، تو اس نے تیمم کیا ، اور نماز پڑھ لی ، تو آپ نے اس سے بھی اسی طرح کی بات کہی جو آپ نے دوسرے سے کہی تھی یعنی تم نے ٹھیک کیا ۔