کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: غسل میں اعضاء کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 428
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : " اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ أَوِ الْحَائِطِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنابت کا غسل کیا ، تو آپ نے اپنی شرمگاہ کو دھویا ، اور زمین یا دیوار پر اپنا ہاتھ رگڑا ، پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اپنے سر اور پورے جسم پر پانی بہایا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے پانی بہانے کے متعلق دو یا تین بار کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ایک بار ہی سمجھا جائے گا، کیونکہ یہی اصول ہے، لیکن یہ وجوب کی حد تک ہے، دو یا تین بار بھی دھویا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الغسل والتيمم / حدیث: 428
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 254 (صحیح)»