کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: غسل کی جگہ سے ہٹ کر دونوں پاؤں دھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 254
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عِيسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : حَدَّثَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ ، قالت : أَدْنَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلَهُ مِنَ الْجَنَابَةِ " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ بِيَمِينِهِ فِي الْإِنَاءِ ، فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى فَرْجِهِ ثُمَّ غَسَلَهُ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ الْأَرْضَ فَدَلَكَهَا دَلْكًا شَدِيدًا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِلْءَ كَفِّهِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ، ثُمَّ تَنَحَّى عَنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ، قَالَتْ : ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِالْمِنْدِيلِ فَرَدَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میری خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل جنابت کا پانی لا کر رکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین بار اپنے دونوں پہونچے دھوئے ، پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن میں داخل کیا تو اس سے اپنی شرمگاہ پر پانی ڈالا ، پھر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مارا اور اسے زور سے ملا ، پھر اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اپنے سر پر تین لپ بھربھر کر ڈالا ، پھر اپنے پورے جسم کو دھویا ، پھر آپ اپنی جگہ سے الگ ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر میں تولیہ لے کر آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه / حدیث: 254
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطھارة 98 (245)، سنن الترمذی/فیہ 76 (103)، سنن ابن ماجہ/فیہ 94 (573)، (تحفة الأشراف: 18064)، مسند احمد (6/329، 330، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (738)، 67 (774)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 408، 418، 419، 428 (صحیح)»