کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 47
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : أَنْبَأَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي إِنَائِهِ ، وَإِذَا أَتَى الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے ، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر ( عضو تناسل ) نہ چھوئے ، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بعض علماء نے داہنے ہاتھ سے عضو تناسل کے چھونے کی ممانعت کو بحالت پیشاب خاص کیا ہے، کیونکہ ایک روایت میں «إذا بال أحدکم فلا یمس ذکرہ» کے الفاظ وارد ہیں، اور ایک دوسری روایت میں «لا يمسكن أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول» آیا ہے، اس لیے ان لوگوں نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، اور نووی نے حالت استنجاء اور غیر استنجاء میں کوئی تفریق نہیں کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حالت استنجاء میں اس کی ممانعت ہے جب کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو دوسری حالتوں میں جب کہ اس کی ضرورت نہیں پڑتی بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 47
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)»
حدیث نمبر: 48
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ يحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ وَأَنْ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَسْتَطِيبَ بِيَمِينِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے سے ، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 48
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 24 (صحیح)»
حدیث نمبر: 49
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَشُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفَيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قال : قال الْمُشْرِكُونَ : إِنَّا لَنَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمُ الْخِرَاءَةَ ، قال : أَجَلْ " نَهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَيَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ ، وَقَالَ : لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مشرکوں نے ( حقارت کے انداز میں ) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ ( تک ) کی تعلیم دیتے ہیں ، تو انہوں نے ( فخریہ ) کہا : ہاں ، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( بحالت قضائے حاجت ) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا ، نیز فرمایا : ” تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ابن حزم کہتے ہیں کہ «بدون ثلاثۃ احجار» میں «دون» ، «اقل» کے معنی میں یا «غیر» کے معنی میں ہے، لہٰذا نہ تین پتھر سے کم لینا درست ہے نہ زیادہ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے «دون» کو «غیر» کے معنی میں لینا غلط ہے، یہاں دونوں سے مراد «اقل» ہے جیسے «ليس فيما دون خمس من الأبل صدقة» میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 49
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 41 (صحیح)»