کتب حدیثسنن نسائيابوابباب: ان چیزوں کو چھوڑے رکھنے کی مدت کی تحدید۔
حدیث نمبر: 14
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ وَنَتْفِ الْإِبْطِ ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا " . وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : أَرْبَعِينَ لَيْلَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے ، ناخن تراشنے ، زیر ناف کے بال صاف کرنے ، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎ ، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: یہ تحدید اکثر مدت کی ہے مطلب یہ ہے کہ چالیس دن سے انہیں زیادہ نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / ذكر الفطرة / حدیث: 14
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الطہارة 16 (258)، سنن ابی داود/الترجل 16 (4200)، سنن الترمذی/الأدب 15 (2758)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 8 (295)، (تحفة الأشراف: 1070) ، مسند احمد 3/122، 203، 256 (صحیح)»