حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى آلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول : أَقْبَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ { 1 } اللَّهُ الصَّمَدُ { 2 } لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ { 3 } وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ { 4 } سورة الإخلاص آية 1-4 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ فَسَأَلْتُهُ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : الْجَنَّةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ` میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واجب ہو گئی “ ، میں نے آپ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا چیز واجب ہو گئی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنت “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/فضائل القرآن 11 (2897) ، (تحفة الأشراف: 14127) ، موطا امام مالک/القرآن 6 (18) ، مسند احمد 2/302، 535، 536 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2897

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´«قل ھو اللہ أحد» پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔`
عبید بن حنین مولی آل زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو آپ نے ایک شخص کو «قل هو اللہ أحد * اللہ الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد‏» پڑھتے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، میں نے آپ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 995]
995۔ اردو حاشیہ: کیونکہ یہ سورت خالص توحید ہے اور توحید کا بدلہ جنت ہے۔ ابتدا میں مل جائے یا کچھ سزا بھگت کر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: «مَن كان آخِرُ كلامِهِ لا إلهَ إلّا اللهُ دخَل الجنَّةَ» جس کی آخری بات لا الہ الا اللہ ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3116]
ہر موحد لازماً جنت میں جائے گا، جب بھی جائے، پھر ہمیشہ وہیں رہے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 995 سے ماخوذ ہے۔