سنن نسائي
باب سجود القرآن— ابواب: قرآن میں سجدوں کا بیان
بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ باب: عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔
حدیث نمبر: 981
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَفِي الْعَصْرِ نَحْوَ ذَلِكَ وَفِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے ، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے ، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 981]
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 981]
981۔ اردو حاشیہ: ظاہر اور عصر میں قرأت کے متعلق مختلف احادیث بیان ہوئی ہیں، ان میں تعارض نہیں بلکہ ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ظہر اور عصر میں درمیانی قرأت کرتے تھے، یعنی نہ بہت لمبی اور نہ بہت مختصر۔ اور صبح کی نماز میں قرأت لمبی کرتے تھے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 981 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 307 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج» ، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 307]
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج» ، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 307]
اردو حاشہ:
1؎:
سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک وساط مفصل ہے۔
2؎:
اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے۔
1؎:
سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک وساط مفصل ہے۔
2؎:
اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 307 سے ماخوذ ہے۔