حدیث نمبر: 980
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَنَحْوِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «والسماء ذات البروج» اور «والسماء والطارق» اور اسی جیسی سورتیں پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / باب سجود القرآن / حدیث: 980
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 131 (805) ، سنن الترمذی/الصلاة 113 (307) ، (تحفة الأشراف: 2147) ، مسند احمد 5/103، 106، 108، سنن الدارمی/الصلاة 62 (1327) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 981 | صحيح مسلم: 459 | صحيح مسلم: 460 | سنن ترمذي: 307 | سنن ابي داود: 805

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 981 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عصر کی پہلی دونوں رکعتوں کی قرأت کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر میں «والليل إذا يغشى» پڑھتے تھے، اور عصر میں اسی جیسی سورت پڑھتے، اور صبح میں اس سے زیادہ لمبی سورت پڑھتے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 981]
981۔ اردو حاشیہ: ظاہر اور عصر میں قرأت کے متعلق مختلف احادیث بیان ہوئی ہیں، ان میں تعارض نہیں بلکہ ان تمام روایات کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ظہر اور عصر میں درمیانی قرأت کرتے تھے، یعنی نہ بہت لمبی اور نہ بہت مختصر۔ اور صبح کی نماز میں قرأت لمبی کرتے تھے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 981 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 307 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج» ، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 307]
اردو حاشہ:
1؎:
سورہ بروج سے سورہ لم یکن تک وساط مفصل ہے۔

2؎:
اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 307 سے ماخوذ ہے۔