حدیث نمبر: 951
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قال : سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ " فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ " ، قَالَ شُعْبَةُ : فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ ق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی ، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎ ، شعبہ کہتے ہیں : میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا : سورۃ «ق» پڑھی ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی وہ سورۃ پڑھی جس میں یہ آیت ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 951
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457) ، سنن الترمذی/فیہ 112 (306) ، سنن ابن ماجہ/إقامة 5 (816) ، (تحفة الأشراف: 11087) ، مسند احمد 4/322، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334، 1335) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 457 | سنن ترمذي: 306 | سنن ابن ماجه: 816 | مسند الحميدي: 846

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔`
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
951۔ اردو حاشیہ: زیاد بن علاقہ کے چچا صحابیٔ رسول قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ کتب ستہ میں ان سے صرف دو روایات مروی ہیں۔ ایک یہی مذکورہ حدیث اور دوسری جامع ترمذی میں حدیث: 3591 ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 951 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 306 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نماز فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
قطبہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 306]
اردو حاشہ:
1؎:
اس سے مراد سورۂ ق ہے۔

2؎:
مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورہ قؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورہ بروج پر ختم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 306 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 816 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فجر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔`
قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں آیت کریمہ: «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھتے ہوئے سنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 816]
اردو حاشہ:
فائده:
سورہ فاتحہ کے بعد قرآن مجید میں سے کسی بھی مقام سے حسب خواہش تلاوت کی جاسکتی ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾ (المزمل: 20)
۔
 ’’جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکو پڑھ لو۔‘‘
اس حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے فجر کی نماز میں سورۃ ق کی تلاوت فرمائی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 816 سے ماخوذ ہے۔