سنن نسائي
كتاب الافتتاح— کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
بَابُ : جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقُرْآنِ باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفٍ ، قَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى حَرْفَيْنِ ، قَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ ، فَقَالَ : " أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِكَ " ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ أُمَّتَكَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَءُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا " قَالَ : أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا الْحَدِيثُ خُولِفَ فِيهِ الْحَكَمُ خَالَفَهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ . رَوَاهُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا .
´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے ، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “ ، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “ ، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں ، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے “ ، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے ، اور انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں ، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے ، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے ، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے، اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک ہی حرف پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اللہ تعالیٰ سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “، پھر دوسری بار جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن پڑھائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اللہ سے عفو و مغفرت کا طلب گار ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی “، پھر جبرائیل علیہ السلام تیسری بار آپ کے پاس آئے اور انہوں کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی امت کو قرآن تین حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اپنے رب سے عفو و مغفرت کی درخواست کرتا ہوں، اور میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ہے “، پھر وہ آپ کے پاس چوتھی بار آئے، اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن پڑھائیں، تو وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے صحیح پڑھیں گے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث میں حکم کی مخالفت کی گئی ہے، منصور بن معتمر نے ان کی مخالفت کی ہے، اسے «مجاهد عن عبيد بن عمير» کے طریق سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 940]
”اور ہم نے ہر رسول اس کی اپنی قوم کی زبان بولنے والا بھیجا۔“ اور یہ متفق علیہ بات ہے کہ آپ قریش ہی تھے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کا یہی نظریہ ہے، ان کے نزدیک «سَبْعَةِ أَحْرُفٍ» اور «قرأت» دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ قرأت کا اختلاف جو آج تک موجود ہے، وہ صرف ایک حرف، یعنی قریش میں ہے، باقی حروف یا منسوخ ہو گئے یا انہیں مصلحتا ختم کر دیا گیا۔ اس پر دوسرے اشکالات کے علاوہ ایک اشکال یہ بھی ہوتا ہے کہ پورے ذخیرۂ احادیث میں کہیں یہ نہیں ملتاکہ تلاوتِ قرآن میں دو قسم کے اختلاف تھے: ایک سبعۃ احرف اور دوسرا قرأت کا بلکہ احادیث میں جہاں کہیں قرآن کریم کے لفظی اختلاف کا ذکر ہے، وہاں ’’احرف“ کا اختلاف بیان ہوا ہے، قرأت کا کوئی جداگانہ اختلاف ذکر نہیں ہوا۔ ان وجوہ کی بنا پر یہ قول بھی نہایت کمزور ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ اس حدیث مبارکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر کمال شفقت کا بھی ذکر ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا: ”میں اللہ سے معافی اور بخشش کا طلب گار ہوں۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔“ اسی بات کو قرآن نے بیان کیا ہے: «﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ﴾» [التوبة: 128: 9]
”یقیناًً تمہارے پاس تمھی میں سے ایک رسول آگیا ہے۔ اس پر تمھارا تکلیف میں مبتلا ہونا گراں گزرتا ہے، وہ تمھاری بھلائی کا بہت حریص ہے۔ مومنوں پر نہایت شفیق، بہت رحم کرنے والا ہے۔“
➌ سات حروف میں سے جس حرف کے ساتھ پڑھا، جائے درست ہے۔
➍ حضرت حکم نے یہ روایت عن مجاہد عن ابن ابی لیلیٰ عن ابی بن کعب کی سند سے متصل مرفوع بیان کی ہے، یعنی صحابی کا واسطہ بیان کیا ہے جبکہ حضرت منصور بن معتمر نے کسی صحابی کا ذکر نہیں کیا۔ عبید بن عمیر تابعی ہیں۔ محدثین کی اصلاح میں ایسی روایت کو مرسل کہتے ہیں، یعنی جس میں کوئی تابعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ بیان کرے۔