حدیث نمبر: 933
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال : حَدَّثَنَا مَخْلَدٌ قال : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَسْفَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ " فَلَمَّا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : " آمِينَ " فَسَمِعْتُهُ وَأَنَا خَلْفَهُ قَالَ : فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَرَدْتُ بِهَا بَأْسًا قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا ، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا ، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا ، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا : ” نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا ؟ “ تو اس شخص نے کہا : میں نے اللہ کے رسول ! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی “ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے آمین کہی، رہا بعض حاشیہ نگاروں کا یہ کہنا کہ پہلی صف والوں کے بالخصوص ایسے شخص سے سننے سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل پیچھے ہو جہر لازم نہیں آتا، تو یہ صحیح نہیں کیونکہ صاحب ہدایہ نے یہ تصریح کی ہے کہ جہر یہی ہے کہ کوئی دوسرا سن لے، اور کرخی نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جہر کا ادنی مرتبہ یہ ہے کہ بولنے والا آدمی خود اسے سنے، رہی وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی خفض والی روایت تو شعبہ نے اس میں کئی غلطیاں کی ہیں، جس کی تفصیل سنن ترمذی حدیث رقم (۲۴۸) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 933
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره دون قوله فما نهنهها , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (3802،855) عبد الجبار بن وائل عن أبيه منقطع. وأبو إسحاق عنعن. وفي الباب أحاديث أخري مغنية عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 328
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 11764) ، مسند احمد 4/315، 317 (صحیح) (اس سند میں عبدالجبار اور ان کے باپ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن’’فما نھنھھا۔۔۔ ‘‘کے جملے کے علاوہ اوپر کی حدیث سے تقویت پاکر بقیہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3802

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جب مقتدی کو امام کے پیچھے چھینک آئے تو کیا کہے؟`
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے اللہ اکبر کہا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے تک اٹھایا، پھر جب آپ نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہا تو آپ نے آمین کہی جسے میں نے سنا، اور میں آپ کے پیچھے تھا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہتے سنا، تو جب آپ اپنی نماز سے سلام پھیر لیا تو پوچھا: " نماز میں کس نے یہ کلمہ کہا تھا؟ " تو اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کے رسول! اور اس سے میں نے کسی برائی کا ارادہ نہیں کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس پر بارہ فرشتے جھپٹے تو اسے عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز روک نہیں سکی۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 933]
933۔ اردو حاشیہ: ➊ محققین نے مذکورہ روایت کے آخری جملے: «فَمَا نَهْنَهَهَا شَيْءٌ دُونَ الْعَرْشِ» کے سوا باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ محقق کتاب اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہے۔ بنابریں آخری جملے کے سوا باقی روایت صحیح اور قابل حجت ہے۔ واللہ أعلم۔
➋ یہ دو مختلف واقعات معلوم ہوتے ہیں۔ پچھلی حدیث میں رکوع کے بعد والا واقعہ ہے اور اس میں تکبیر تحریمہ کے بعد ان کلمات کا ورود ثابت ہوتا ہے، لہٰذا ان دونوں کو ایک ہی واقعہ شمار کرنا تکلف ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 933 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3802 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔`
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ایک شخص نے («سمع الله لمن حمده» کے بعد) «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کلمہ کس نے کہا؟ اس شخص نے عرض کیا: میں نے یہ کلمہ کہا اور اس سے میری نیت خیر کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس کلمہ کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور اس کلمے کو عرش تک پہنچنے سے کوئی چیز نہیں روک سکی۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3802]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تا ہم اسی مفہوم کی صحیح احادیث حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت انس ؓ سے مروی ہیں، البتہ ان میں یہ جملہ نہیں ہے: ’’ان (الفاظ)
کے عرش تک پہنچنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنی۔‘‘

(2)
صحیح مسلم میں حضرت انس ؓسے مروی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "میں نے بارہ فرشتے ان کلمات کے ساتھ جلدی کرتے ہوئے دیکھے کہ انہیں کون (پہلے لکھ کر پہلے)
اوپر لے جاتا ہے۔‘‘ (صحيح مسلم، المساجد، باب ما يقال بين التكبيرة الإحرام والقراءة، حديث: 600)
آسمان کے دروازے کھلنے کے الفاظ دوسرے کلمات کے بارے میں ہیں جو اس طرح ہیں: (اللهُ أَكْبَرُ كَبِيْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّأَصِيْلاً)
یہ حدیث حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے۔ (صحيح مسلم، المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة، حديث: 601)

(3)
فرشتوں کا ان کلمات کو جلد لکھنے کی کوشش کرنا ان کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3802 سے ماخوذ ہے۔