حدیث نمبر: 895
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قال : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَتْ لَهُ سَكْتَةٌ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد اور قرات شروع کرنے سے پہلے، اس درمیان آپ دعا ثنا پڑھتے تھے، جیسا کہ اگلی روایت میں صراحت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 60 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز شروع کرنے کے بعد امام کے (تھوڑی دیر) خاموش رہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر چپ رہتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 895]
895۔ اردو حاشیہ: اس خاموشی سے مراد آہستہ منہ میں پڑھنا ہے۔ اس دوران میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استفتاح پڑھتے تھے۔ اس کے بعد بلند آواز سے قرأت شروع فرماتے۔ گویا تکبیر تحریمہ کے فوراًً بعد ہی قرأت شروع کر دینا خلاف سنت اور سکون و اطمینان کے منافی ہے بلکہ کچھ دیر تک حمد وثنا اور دعا کی جائے، پھر قرأت شروع کی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 895 سے ماخوذ ہے۔