حدیث نمبر: 892
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ قال : صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى خَصْرِي فَقَالَ لِي " هَكَذَا ضَرْبَةً بِيَدِهِ فَلَمَّا صَلَّيْتُ قُلْتُ : لِرَجُلٍ مَنْ هَذَا قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي قَالَ : " إِنَّ هَذَا الصَّلْبُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ ( کمر ) پر رکھ لیا ، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا ، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے ( پوچھا ) یہ کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں ، میں نے ان سے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی ؟ تو انہوں نے کہا : یہ صلیب کی ہیئت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 903

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔`
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
892۔ اردو حاشیہ: ➊ کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھنے والے شخص کی کہنیاں باہر کو نکلی ہوتی ہیں اور سولی پر لٹکے ہوئے شخص کے ہاتھ باہر کو نکلے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا کندھوں سے کہنیوں تک کی حالت دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہے اور یہ قبیح حالت ہے۔ صلیب ویسے بھی عیسائیوں کا مذہبی نشان ہے۔ مذہبی شعار میں مشابہت قطعاً جائز نہیں۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوا کہ اگر نماز میں کوئی خلاف سنت عمل کیا جا رہا ہو تو اس کی اصلاح کر دینی چاہیے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 892 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 903 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کمر پر ہاتھ رکھنے اور اقعاء کرنے کے حکم کا بیان۔`
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ۱؎، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 903]
903۔ اردو حاشیہ:
➊ اثنائے نماز میں کوکھ (یا کولہوں) پر ہاتھ رکھنا ناجائز ہے، اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہی مشابہت جو ذکر ہوئی ہے کہ سولی دیے جانے والے کو لکڑی پر اسی انداز میں کھڑا کرتے تھے کہ اس کے ہاتھ اس کے پہلوؤں سے دور ہوتے تھے۔ دیگر اقوال یہ ہیں، اس میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے یا یہود سے مشابہت ہوتی ہے یا یہ دوزخیوں کے آرام کی کیفیت ہو گی، یا متکبرین اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں یا غم و اندوہ میں بھی لوگ اسی انداز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وغیرہ [عون المعبود] الغرض وجہ کوئی بھی ہو یہ عمل ممنوع ہے۔
«اقعاءعلي القدمين» کی وضاحت اس طرح ہے کہ «اقاء» ایڑیوں پر بیٹھنے کو کہتے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔ تفصیل کے لیے سنن ابوداود حدیث [845] کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 903 سے ماخوذ ہے۔