حدیث نمبر: 889
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قال : " رَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وَضَعْتُ شِمَالِي عَلَى يَمِينِي فِي الصَّلَاةِ فَأَخَذَ بِيَمِينِي فَوَضَعَهَا عَلَى شِمَالِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الافتتاح / حدیث: 889
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 120 (755) ، سنن ابن ماجہ/إقامة 3 (811) ، (تحفة الأشراف: 9378) ، مسند احمد 1/347 (حسن)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´امام جب کسی شخص کو اپنا بائیاں ہاتھ داہنے ہاتھ پہ رکھے ہوئے دیکھے تو کیا کرے؟`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میں نماز میں اپنا بایاں ہاتھ اپنے داہنے ہاتھ پر رکھے ہوئے تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا داہنا ہاتھ پکڑا اور اسے میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 889]
889۔ اردو حاشیہ: ➊ شریعت اسلامیہ میں دائیں ہاتھ کو ترجیح اور فضیلت حاصل ہے۔ جنتیوں کو اہل یمین کہا گیا ہے۔ دایاں ہاتھ اچھے کاموں کے لیے مخصوص ہے۔ اور اسی طرح نماز میں دوران قیام دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنے کا حکم ہے۔
➋ دوران نماز میں غلطی کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔
➌ اپنی نماز کی اصلاح ہو یا دوسرے کی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 889 سے ماخوذ ہے۔