سنن نسائي
كتاب الافتتاح— کتاب: نماز شروع کرنے کے مسائل و احکام
بَابُ : الْقَوْلِ الَّذِي يُفْتَتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ باب: وہ کلمہ جس کے ذریعہ نماز شروع کی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : حَدَّثَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قال : قَامَ رَجُلٌ خَلْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ، فَقَالَ : نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ صَاحِبُ الْكَلِمَةِ " فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، فَقَالَ : " لَقَدِ ابْتَدَرَهَا اثْنَا عَشَرَ مَلَكًا " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا : «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑا ہے ، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کلمے کس نے کہے ہیں ؟ “ تو اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا “ ۲؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھا: «اللہ أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان اللہ بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑا ہے، اور میں اسی کی بڑائی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور میں اسی کی خوب تعریف کرتا ہوں، اللہ کی ذات پاک ہے، اور میں صبح و شام اس کی ذات کی پاکی بیان کرتا ہوں “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ کلمے کس نے کہے ہیں؟ “ تو اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے بارہ فرشتوں کو اس پر جھپٹتے دیکھا “ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 886]
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کراماً کاتبین کے علاوہ دوسرے فرشتے بھی بعض اعمال اللہ کے ہاں لے کر حاضر ہوتے ہیں۔
(رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ)
کے بعد کہا ہے۔
………… سوال …………
عیدین کی تکبیرات جس کے الفاظ یہ ہیں: «الله أكبر كبيرًا والحمدللّٰه كثيرًا وسبحان الله بكرة وأصيلا»
اس تکبیر میں کیا حرج ہے؟ اس کی بھی وضاحت کریں۔
………… الجواب …………
میرے علم کے مطابق یہ الفاظ، تکبیراتِ عیدین میں ثابت نہیں البتہ نماز میں ضرور ثابت ہیں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا»
تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کلمات کس نے کہے ہیں؟
اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے ان (کلمات) کے لئے تعجب ہے، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں۔
[صحيح مسلم، كتاب المساجد باب مايقال بين تكبيرة الاحرام والقراءة ح 601]
تکبیراتِ عیدین میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے
«اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا»
کے الفاظ ثابت ہیں۔
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5645، السنن الكبريٰ للبيهقي 3/ 316]
اس سلسلے میں مرفوعاً
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کے الفاظ جو سنن دارقطنی [2/ 49 ح 1721] کی روایت میں آئے ہیں، وہ روایت عمرو بن شمر (کذاب) وغیرہ کی وجہ سے موضوع ہے۔
اسے حافظ ذہبی نے سخت ضعیف بلکہ موضوع (من گھڑت) کہاہے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ الفاظ ابراہیم نخعی سے باسند صحیح ثابت ہیں۔ دیکھئے [مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5649 وسنده صحيح]
………… سوال …………
بروز عیدین و ایام تشریق میں پڑھے جانے والے (تکبیر کے) مشہور الفاظ
«اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
کیا یہ کسی صحیح حدیث و صحیح روایت سے نبی کریم ﷺ سے ثابت ہیں؟ یا کسی صحابی سے ثابت ہیں؟ یا کسی تابعی سے ثابت ہیں؟ یا محدثین عظام سے ثابت ہیں؟ ان کے ان مواقع پر پڑھنے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
………… الجواب …………
ایک حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ ایام عید کی تکبیروں میں درج ذیل کلمات کہتے تھے: «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[سنن الدارقطني ج 2 ص 49، 50 ح 1721]
اس روایت کی سند موضوع ہے۔ عمرو بن شمر کذاب راوی ہے۔ جابر الجعفی سخت ضعیف رافضی ہے۔ نائل بن نجیح ضعیف ہے۔ دیکھئے کتب اسماء الرجال وغیرہ
ایک روایت میں آیا ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ تکبیرات عیدین میں درج ذیل الفاظ پڑھتے تھے: «اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه 2/ 167 ح 5650]
اس کی سند صحیح ہے۔
سیدنا سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے: «اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ»
[مصنف عبدالرزاق 11/ 294، 295 ح 20581، والبيهقي 3/ 316، وسنده حسن]
ابراہیم النخعی کہتے ہیں: «كَانُوا يُكَبِّرُونَ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَأَحَدُهُمْ مُسْتَقْبِلٌ الْقِبْلَةَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، واللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ»
[مصنف ابن ابي شيبه ج 2 ص 167 ح 5649 وسنده صحيح]
درج بالا تکبیرات صحابہ و تابعین سے ثابت ہیں لہٰذا ایام عیدین میں انھیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اقتداء بالسلف کی رو سے ثواب کی امید ہے۔
مختصر یہ کہ آپ کی ذکر کردہ دعا پڑھنی تابعین سے ثابت ہے اور اس پر عمل صحیح ہے۔ والحمدللہ
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 479 تا 481) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۱؎، اسی دوران ایک شخص نے کہا: «الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا» ” اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام “، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سنا تو) پوچھا: ” ایسا ایسا کس نے کہا ہے؟ “ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے کہا ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” میں اس کلمے کو سن کر حیرت میں پڑ گیا، اس کلمے کے لیے آسمان کے دروازے کھولے گئے۔“ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3592]
وضاحت:
1؎:
’’نماز پڑھ رہے تھے‘‘ سے مراد: ہم لوگ نماز شروع کر چکے تھے، اتنے میں وہ آدمی آیا اور دعاءِ ثناء کی جگہ اس نے یہی کلمات کہے، اس پر نبی اکرمﷺ نے اس کی تقریر(تصدیق) کر دی، تو گویا ثناء کی دیگر دعاؤں کے ساتھ یہ دعاء بھی ایک ثناء ہے، امام نسائی دعاءِ ثنا کے باب ہی میں اس حدیث کو لاتے ہیں، اس لیے بعض علماء کا یہ کہنا کہ (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ...) کے سواء ثنا کی بابت منقول ساری دعائیں سنن ونوافل سے تعلق رکھتی ہیں، صحیح نہیں ہے۔
2؎:
اللہ بہت بڑائی والا ہے، اور ساری تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اور پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لیے صبح و شام۔