حدیث نمبر: 873
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو أُسَامَةَ ، قال : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَوْمًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ : " يَا فُلَانُ أَلَا تُحَسِّنُ صَلَاتَكَ أَلَا يَنْظُرُ الْمُصَلِّي كَيْفَ يُصَلِّي لِنَفْسِهِ إِنِّي أُبْصِرُ مِنْ وَرَائِي كَمَا أُبْصِرُ بَيْنَ يَدَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے فلاں ! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے ؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے ، ( سن لو ) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإمامة / حدیث: 873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصلاة 24 (423)، (تحفة الأشراف: 4334)، مسند احمد 2/449 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صف میں ملے بغیر رکوع کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر کر پلٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اے فلاں! تم اپنی نماز درست کیوں نہیں کرتے؟ کیا نمازی دیکھتا نہیں کہ اسے اپنی نماز کیسی پڑھنی چاہیئے، (سن لو) میں اپنے پیچھے سے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 873]
873۔ اردو حاشیہ: ممکن ہے مصنف کے نزدیک یہ وہی شخص ہو جس نے صف سے پہلے رکوع کیا تھا ورنہ اس حدیث کا باب سے کوئی تعلق نہیں، الایہ کہ کہا جائے کہ صف سے پہلے رکوع کرنا نماز کی اچھائی کے خلاف ہے اور آپ نے اس حدیث میں نماز کو اچھی بنانے کا حکم دیا ہے۔ (اس حدیث کی باقی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 814)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 873 سے ماخوذ ہے۔