سنن نسائي
كتاب الإمامة— کتاب: امامت کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمُنْفَرِدِ خَلْفَ الصَّفِّ باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قال : " كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ : فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی ، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی ، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں ، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎ ، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» ( الحجر : ۲۴ ) ” ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں ، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» (الحجر: ۲۴) " ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں۔" [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہو جاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہو جاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» " ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں " (الحجر: ۲۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3122]
وضاحت:
1؎:
ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں۔
(الحجر: 24)