سنن نسائي
كتاب الإمامة— کتاب: امامت کے احکام و مسائل
بَابُ : حَدِّ إِدْرَاكِ الْجَمَاعَةِ باب: (بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 856
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ الْفِهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ حَضَرَهَا وَلَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اچھی طرح وضو کیا ، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا ، ( اور مسجد آیا ) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا ، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´(بغیر جماعت) جماعت کا ثواب پانے کی حد کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 856]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر وہ مسجد کا ارادہ کر کے نکلا، (اور مسجد آیا) تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ چکے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس شخص کو ملا ہے جو جماعت میں موجود تھا، اور یہ ان کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 856]
856۔ اردو حاشیہ: اس شخص کی نیت جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے ہی کی تھی، پھر اس نے کوئی کوتاہی بھی نہیں کی بلکہ اپنی پوری کوشش کی لیکن پھر بھی جماعت نہ مل سکی۔ اس نے افسوس کیا تو اس کی نیت اور کوشش کے لحاظ سے اسے جماعت کا ثواب ملے گا، بشرطیکہ وہ جماعت کا پابند ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس سے مراد وہ شخص نہیں جو نماز باجماعت میں سستی کا عادی ہے یا زیادہ پروا نہیں کرتا۔ مل جائے تو ٹھیک، نہ ملے تو کوئی افسوس نہیں۔ ایسے شخص کے لیے کم از کم ایک رکعت باجماعت پڑھنے کی صورت میں جماعت کا ثواب ملے گا، کم میں نہیں۔ اور یہ بات صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، مواقیت الصلاة، حدیث: 580، وصحیح مسلم، المساجد، حدیث: 607]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 856 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 564 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو نماز کے ارادہ سے نکلا لیکن اس کی جماعت چھوٹ گئی۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 564]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر مسجد کی طرف چلا تو دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اسے بھی اللہ تعالیٰ جماعت میں شریک ہونے والوں کی طرح ثواب دے گا، اس سے جماعت سے نماز ادا کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 564]
564. اردو حاشیہ:
یہ فضل عظیم اس شخص کی حسن نیت اور جہد کامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
یہ فضل عظیم اس شخص کی حسن نیت اور جہد کامل کی بنا پر ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 564 سے ماخوذ ہے۔