حدیث نمبر: 855
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ " فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی : ( لوگو ! ) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإمامة / حدیث: 855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 213 (1057، 1058، 1059)، سنن ابن ماجہ/إقامة 35 (936)، (تحفة الأشراف: 133)، مسند احمد 5/24، 74، 75 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1057 | سنن ابي داود: 1059 | سنن ابن ماجه: 936

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جماعت چھوڑنے کے عذر کا بیان۔`
اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: (لوگو!) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 855]
855۔ اردو حاشیہ: یہ اعلان اذان ہی میں کیا گیا ہے۔ حی علی الفلاح کے بعد یا حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح کی جگہ یا اذان کے اختتام پر۔ اب بھی اگر بارش برس رہی ہو یا بہت زیادہ کیچڑ ہو یا یخ ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو اور مسجد میں پہننا ممکن نہ ہو تو مؤذن یہ اعلان کر سکتا ہے۔ واللہ أعلم۔ اس مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے کتاب الأذان کا ابتدائیہ دیکھیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 855 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1059 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بارش کے دن جمعہ کے حکم کا بیان۔`
ابوملیح اپنے والد اسامہ بن عمیر ہزلی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صلح حدیبیہ کے موقع پر جمعہ کے روز حاضر ہوئے وہاں ایسی بارش ہوئی تھی کہ ان کے جوتوں کے تلے بھی نہیں بھیگے تھے تو آپ نے انہیں اپنے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1059]
«1059۔ اردو حاشيه:»
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں جمعہ پڑھانا ثابت نہیں ہے، مقیم لوگوں کے لئے اگر حاضری مشکل ہو تو رخصت ہے۔ البتہ امام حاضرین کو جمعہ پڑھائے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [صحيح بخاري۔ حديث: 668]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1059 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 936 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بارش کی رات میں باجماعت نماز کے حکم کا بیان۔`
ابوملیح کہتے ہیں کہ میں بارش والی رات میں (گھر سے) نکلا، جب واپس آیا تو میں نے دروازہ کھلوایا، میرے والد (اسامہ بن عمیر ھذلی رضی اللہ عنہ) نے اندر سے پوچھا: کون؟ میں نے جواب دیا: ابوالملیح، انہوں نے کہا: ہم نے دیکھا کہ ہم حدیبیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، اور بارش ہونے لگی اور ہمارے جوتوں کے تلے بھی نہ بھیگے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا: «صلوا في رحالكم» اپنے اپنے ٹھکانوں پر نماز پڑھ لو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 936]
اردو حاشہ:
فائدہ: (1)
بارش کے موقع پر گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے۔

(2)
ایسے موقع پر مؤذن کو اذان میں یہ اعلان کردینا چاہیے۔
کہ (صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ)
’’اپنی اقامت گاہوں پر نماز پڑھ لو‘‘ (3)
جب کسی سے پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں۔
تو جواب میں اپنا نام لینا چاہیے۔
’’میں ہوں‘‘ کہنا مناسبت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 936 سے ماخوذ ہے۔