سنن نسائي
كتاب الإمامة— کتاب: امامت کے احکام و مسائل
بَابُ : التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت چھوڑنے کی شناعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ زَائِدَةَ بْنِ قُدَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ حُبَيْشٍ الْكَلَاعِيُّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، قال : قال لِي أَبُو الدَّرْدَاءِ أَيْنَ مَسْكَنُكَ قُلْتُ : فِي قَرْيَةٍ دُوَيْنَ حِمْصَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ قَالَ : السَّائِبُ يَعْنِي بِالْجَمَاعَةِ الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ " .
´معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ` مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تمہارا گھر کہاں ہے ؟ میں نے کہا : حمص کے دُوَین نامی بستی میں ، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں ، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے ، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے “ ۔ سائب کہتے ہیں : جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معدان بن ابی طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ مجھ سے ابودرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہارا گھر کہاں ہے؟ میں نے کہا: حمص کے دُوَین نامی بستی میں، اس پر ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” جب کسی بستی یا بادیہ میں تین افراد موجود ہوں، اور اس میں نماز نہ قائم کی جاتی ہوتی ہو تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑ یا ریوڑ سے الگ ہونے والی بکری ہی کو کھاتا ہے۔“ سائب کہتے ہیں: جماعت سے مراد نماز کی جماعت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 848]
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تین آدمی کسی بستی یا جنگل میں ہوں اور وہ جماعت سے نماز نہ پڑھیں تو ان پر شیطان مسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو، اس لیے کہ بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہوتی ہے۔“ زائدہ کا بیان ہے: سائب نے کہا: جماعت سے مراد نماز باجماعت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 547]
«عليك بالجماعة» ”جماعت کو لازم پکڑو۔“ کی تاکید سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے لئے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ نماز باجماعت کا اہتمام ہے۔ اس جملے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ا جتماعیت کا التزام رکھو اور کوئی عقیدہ یا عمل ایسا اختیار نہ کرو، جو جماعت صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کے عقیدہ و عمل کے برعکس ہو۔ جماعت اور اجتماعیت میں عدد اور گنتی کی اہمیت نہیں ہے، کیونکہ دین اسلام کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر ہے اس کے اختیار کرنے ہی میں اجتماعیت ہے خواہ افراد کتنے ہی کم ہوں۔ اور اصل کو چھوڑنے میں افتراق ہے۔ خواہ ان کی تعداد کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ دیکھئے حضرات ابراہیم علیہ السلام کو اکیلے ہوتے ہوئے بھی امت قرار دیا گیا ہے۔ «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّـهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ»
”بلاشبہ ابراہیم ایک امت تھے، اللہ کے مطیع یکسو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔“
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ما من ثلاثة فى قرية و لا بدوٍ لا تقام فيهم الصلٰوة إلا قداستحوذ عليهم الشيطان فعليك بالجماعة فإنما يأكل الذئب القاصية»
جس گاؤں یا بستی میں تین آدمی ہوں اور اُن میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے تو اُن پر شیطان کا تسلط ہو جاتا ہے، لہٰذا تم جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ دُور رہ جانے والی اکیلی بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے۔
اسے امام ابو داود [547] وغیرہ نے بیان کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔
امام ابن خزیمہ [1486] حافظ ابن حبان [الاحسان: 2098، دوسرا نسخه: 2101، موارد الظمآن: 425] حاکم [1/ 246] اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھئے: [اضواء المصابيح 1067]
اس حدیث کے راوی سائب بن حبیش رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’جماعت سے مراد باجماعت نماز ہے۔ ‘‘ دیکھئے: [سنن ابي داود 574 اور صحيح ابن حبان الاحسان5/ 459]
اس صحیح حدیث سے کئی مسائل ثابت ہوتے ہیں مثلاً: ➊ گاؤں ہو یا جنگل، ہر جگہ باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
➋ عذر کے بغیر باجماعت نماز نہ پڑھنا غلط اور قابلِ مذمت ہے۔
➌ شیطان ہر وقت کوشاں ہے کہ اہلِ ایمان کو صراطِ مستقیم سے بھٹکا دے۔
➍ مسئلہ سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کرنا جائز اور صحیح ہے، بشرطیکہ کسی شرعی حکم کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔
➎ روایتِ مذکورہ سے موجودہ کاغذی جماعتوں اور تنظیموں کا جواز ثابت کرنا، راویِ حدیث کے فہم کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
➏ عام کی تخصیص جائز ہے۔
➐ اجماع شرعی حجت ہے۔
➑ اگر شرعی عذر اور ضرورت ہو تو جنگل میں رہنا جائز ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے: [اضواء المصابيح: 184 تفقه]