حدیث نمبر: 842
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإمامة / حدیث: 842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 805 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہیں تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 842]
842۔ اردو حاشیہ: جب امام کے علاوہ ایک بچہ اور ایک عورت ہو تو بچہ امام کی دائیں جانب اور عورت پیچھے اکیلی ہی کھڑی ہو گی اگرچہ اپنی بیوی یا کوئی محرم خاتون ہی کیوں نہ ہو، شرعاً اس قسم کی صورت میں باجماعت نماز کا یہی طریقہ ہے۔ یہی باب کا مقصد ہے۔ (مزید وضاحت کے لیے حدیث نمبر 804، 805 کے فوائد و مسائل دیکھیے۔)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 842 سے ماخوذ ہے۔