حدیث نمبر: 827
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قال : أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالتَّخْفِيفِ وَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے ، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جس میں ایک سو اسی آیتیں ہیں، اور عمومی طور پر آپ ساٹھ سے سو آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الإمامة / حدیث: 827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6749)، مسند احمد 2/26، 40، 157 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کبھی کبھی امام کو نماز لمبی کرنے کی رخصت کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے، اور آپ ہماری امامت سورۃ الصافات سے کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 827]
827۔ اردو حاشیہ: امام کو مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگ شوق سے نماز پڑھتے تھے۔ دل تنگ ہونے یا بے زاری کا خدشہ نہ تھا اس لیے آپ لمبی نماز پڑھاتے تھے مگر پھر بھی کبھی بچے کا رونا سنتے تو نماز مختصر فرما دیتے۔ ہر امام اپنے مقتدیوں کے لحاظ سے نماز پڑھائے مگر ارکان کی ادائیگی صحیح ہونی چاہیے۔ نماز میں سکون و اطمینان ہو۔ صرف قرأت و تسبیحات اور ادعیہ میں تخفیف ہو گی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 827 سے ماخوذ ہے۔