سنن نسائي
كتاب الإمامة— کتاب: امامت کے احکام و مسائل
بَابُ : مَنْ يَلِي الإِمَامَ ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ باب: امام کے قریب کون لوگ ہوں پھر ان سے قریب کون ہوں؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ، قال : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : أَخْبَرَنِي التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بنِ عُبَادٍ ، قال : بَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي فَلَمَّا انْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ : " يَا فَتَى لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ " ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ : " هَلَكَ أَهْلُ الْعُقَدِ " وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : " وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى وَلَكِنْ آسَى عَلَى مَنْ أَضَلُّوا " قُلْتُ : يَا أَبَا يَعْقُوبَ مَا يَعْنِي بِأَهْلِ الْعُقَدِ قَالَ : الْأُمَرَاءُ .
´قیس بن عباد کہتے ہیں کہ` میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا ، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا ، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا ، جب وہ ( سلام پھیر کر ) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا : اے نوجوان ! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے ! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق ( عہد ) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں ، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے ، اور انہوں نے تین بار کہا : رب کعبہ کی قسم ! تباہ ہو گئے اہل عقد ، پھر انہوں نے کہا : لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے ، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں ، میں نے پوچھا : اے ابو یعقوب ! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب ؟ تو انہوں نے کہا : امراء ( حکام ) مراد ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں مسجد میں اگلی صف میں تھا کہ اسی دوران مجھے میرے پیچھے سے ایک شخص نے زور سے کھینچا، اور مجھے ہٹا کر میری جگہ خود کھڑا ہو گیا، تو قسم اللہ کی غصہ کے مارے مجھے اپنی نماز کا ہوش نہیں رہا، جب وہ (سلام پھیر کر) پلٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا: اے نوجوان! اللہ تجھے رنج و مصیبت سے بچائے! حقیقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا میثاق (عہد) ہے کہ ہم ان سے قریب رہیں، پھر وہ قبلہ رخ ہوئے، اور انہوں نے تین بار کہا: رب کعبہ کی قسم! تباہ ہو گئے اہل عقد، پھر انہوں نے کہا: لیکن ہمیں ان پر غم نہیں ہے، بلکہ غم ان پر ہے جو بھٹک گئے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابو یعقوب! اہل عقد سے آپ کا کیا مطلب؟ تو انہوں نے کہا: امراء (حکام) مراد ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 809]