سنن نسائي
كتاب الإمامة— کتاب: امامت کے احکام و مسائل
بَابُ : ذِكْرِ الإِمَامَةِ وَالْجَمَاعَةِ إِمَامَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ باب: اہل علم و فضل کی امامت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلَيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قالتِ الْأَنْصَارُ : مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ فَأَتَاهُمْ عُمَرُ ، فَقَالَ : أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ " .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے : ایک امیر ہم ( انصار ) میں سے ہو گا اور ایک امیر تم ( مہاجرین ) میں سے ، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور کہا : کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ۱؎ ، تو اب بتاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہو گا ؟ ۲؎ تو لوگوں نے کہا : ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۳؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار کہنے لگے: ایک امیر ہم (انصار) میں سے ہو گا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، اور کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ۱؎، تو اب بتاؤ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر تم میں سے کس کا جی خوش ہو گا؟ ۲؎ تو لوگوں نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھنے پر اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 778]
اور قریش میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جو مقام و مرتبہ حاصل تھا، وہ کسی اور کو نہ تھا۔ سب سے پہلے اسلام لانے والے، نبوت سے قبل بھی آپ کے دوست، تادم وفات آپ کے ساتھی اور مشیر، آپ کے سسر، ہجرت میں آپ کے رفیق، عشرۂ مبشرہ میں سے اولین شخصیت، تقویٰ و سخاوت اور دور اندیشی میں تمام صحابہ سے فائق اور سب کے نزدیک محترم و مکرم، انھی وجوہات کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دنوں میں انہیں امامت کے لیے مقرر فرمایا۔ [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 678، و صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 418]
یہ واضح اشارہ تھا کہ آئندہ امیر اور خلیفہ بھی ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) ہی ہوں گے کیونکہ یہ تو نہیں ہو سکتاکہ امیر کوئی اور ہو اور جماعت کوئی اور کرائے۔ انصار اس طرف توجہ نہ کر سکے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے سے انصار کے ذہن میں یہ نکتہ آگیا اور مسئلہ حل ہو گیا۔
➋ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امامت کے لیے مقرر فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل علم و فضل ہی کو امامت جیسے جلیل القدر منصب پر فائز کیا جانا چاہیے، نیز أعلم کو اقرا پر ترجیح دینا جائز ہے جب دیگر مقاصد مدنظر ہوں کیونکہ أقرا تو صحیح حدیث کی رو سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے۔ [جامع الترمذي، المناقب، حدیث: 3790، 3791، و سنن ابن ماجه، السنة، حدیث: 154]
جبکہ مطلقاً أعلم کو أقرا پر مقدم کرنے کا استدلال درست نہیں کیونکہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تقدیم کا مقصد صرف نماز کی امامت نہ تھا بلکہ یہ امامت کبریٰ، یعنی ان کی خلافت کی طرف بھی اشارہ تھا۔ واللہ أعلم۔