حدیث نمبر: 766
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قال : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ ، أَفَأُصَلِّي فِيهِ ؟ قَالَ : " وَزُرَّهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا ، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ہاں پڑھ لو ) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القبلة / حدیث: 766
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 632

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ایک قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 766]
766۔ اردو حاشیہ: قمیص اگر لمبی ہو، گھٹنوں سے نیچی ہو کہ کسی بھی رکن کی ادائیگی میں گھٹنے آگے یا پیچھے سے ننگے نہ ہوتے ہوں تو اس احتیاط کے ساتھ اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں کہ سامنے کے گلے میں بٹن لگا لیا جائے تاکہ سامنے سے ستر نہ کھلے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 766 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 632 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آدمی ایک کرتے (قمیص) میں نماز پڑھے تو کیسا ہے؟`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کُرتے (قمیض) میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو (بٹن لگا لیا کرو)، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 632]
632۔ اردو حاشیہ:
ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے، اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 632 سے ماخوذ ہے۔