حدیث نمبر: 765
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القبلة / حدیث: 765
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 765]
765۔ اردو حاشیہ: ➊ عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پہلے خاوند سے بیٹے تھے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پائی۔
➋ ایک کپڑے میں نماز مجبوری کی حالت میں پڑھی جائے۔ اگر وہ چھوٹا ہو تو اسے ناف سے گھٹنوں تک باندھ لیا جائے اور اگر کچھ بڑا ہو تو بغلوں کے نیچے سے گزار کر دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈال لیں۔ اگر کھلنے کا اندیشہ ہو تو گردن کے پیچھے گرہ دیں لیں ورنہ کھلا چھوڑ لیں۔ اس طرح پیٹ اور کمر بھی چھپ جائیں گے۔ حدیث میں اسی طرح کا ذکر ہے اور اگر دو کپڑے ہوں تو پھر دو ہی میں نماز پڑھیں۔ ایک کو ازار اور دوسرے کو ردا یا قمیص بنائیں۔
➌ حدیث کے الفاظ سے واضح ہے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے، ایسی صورت میں یقیناًً سرننگا رہتا ہے، اس لیے ننگے سر نماز کے ہو جانے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب غربت و ناداری عام تھی جیسا کہ حدیث سے واضح ہے۔ اب آسانی کی حالت میں ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کو عادت بنا لینا، اسے کوئی بھی پسند نہیں کرے گا، نہ اس کے لیے جواز کا فتویٰ ہی ڈھونڈے گا۔ اسی طرح ننگے سر نماز پڑھنے کا مسئلہ ہے کہ اس کے جواز میں بھی کوئی شک نہیں ہے لیکن اسے عادت اور شعار بنا لینا قطعاً پسندیدہ نہیں، نہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابۂ کرام اور اسلافِ عظام کے طرزِ عمل ہی سے مطابقت رکھتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 765 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 354 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
354. حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دفعہ ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھی جبکہ اس کے دونوں کناروں کو الٹ کر اپنے کندھوں پر ڈال لیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:354]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؓ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ کی تین روایات ذکر کی ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ان کی حکمت بایں الفاظ ذکر کی ہے: پہلی روایت کی سند عالی ہے، کیونکہ اس میں امام بخاری ؒ اورراوی حدیث حضرت عمر بن ابی سلمہؓ کے درمیان تین واسطے ہیں، اگرچہ علومطلق نہیں، بلکہ نسبی ہے، کیونکہ دوسری اور تیسری روایت کے مقابلے میں علو پایا جاتا ہے۔
تاہم سند گو عالی ہے لیکن اس میں ر اوی حدیث نے اپنے مشاہدے کی صراحت نہیں کی۔
اس کے علاوہ اس میں بصیغہ "عن" روایت کی گئی ہے۔
امام بخاری ؒ نے دوسری سافل سند ذکر کرکے راوی کے مشاہدے کی تصریح نقل کردی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی نے جو رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے وہ مشاہدے کے بعد کی ہے۔
لیکن اس روایت میں یہ سقم تھا کہ اگرچہ اس میں ہشام نے ا پنے باپ عروہ سے تصریح سماع کردی ہے۔
تاہم حضرت عروہ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ سے بصیغہ"عن" روایت کی ہے۔
تیسری روایت بیان کرکے امام بخاری ؒ نے (عَنعَنَه)
کی بجائے سماع کی تصریح نقل کردی ہے، کیونکہ عنعنہ میں احتمال كی حدتک انقطاع کا شائبہ رہ جاتا ہے۔
نیز آخری دوروایات میں اس جگہ کی بھی تعین کردی گئی ہے جہاں راوی حدیث نے اس عمل کامشاہدہ کیاتھا اور وہ حضرت ام سلمہ ؓ کا گھر ہے اور حضرت ام سلمہ ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں، نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہواکہ مخالفت طرفین اوراشتمال دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 608/1)

علامہ ابن بطال ؒ نے مصنف عبدالرزاق (356/1)
کے حوالے سے حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق مناظرہ نقل کیاہے۔
حضرت ابی بن کعب کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اس لیے آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا موقف تھا کہ ایساکرنا اضطراری حالات کے پیش نظر تھا، جب لوگوں کے ہاں کشادگی اوروسعت نہ تھی۔
آج جب حالات ناگفتہ بہ نہیں ہیں تو نماز کے لیے مکمل لباس پہننا ہوگا۔
حضرت عمر ؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر فیصلہ فرمایاکہ بات تو حضرت ابی ؓ کی صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی اجتہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔
(شرح البخاري: 21/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 354 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 355 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
355. حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے نبی ﷺ کو حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ نے چادر کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں پر ڈالا ہوا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:355]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؓ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ کی تین روایات ذکر کی ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ان کی حکمت بایں الفاظ ذکر کی ہے: پہلی روایت کی سند عالی ہے، کیونکہ اس میں امام بخاری ؒ اورراوی حدیث حضرت عمر بن ابی سلمہؓ کے درمیان تین واسطے ہیں، اگرچہ علومطلق نہیں، بلکہ نسبی ہے، کیونکہ دوسری اور تیسری روایت کے مقابلے میں علو پایا جاتا ہے۔
تاہم سند گو عالی ہے لیکن اس میں ر اوی حدیث نے اپنے مشاہدے کی صراحت نہیں کی۔
اس کے علاوہ اس میں بصیغہ "عن" روایت کی گئی ہے۔
امام بخاری ؒ نے دوسری سافل سند ذکر کرکے راوی کے مشاہدے کی تصریح نقل کردی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی نے جو رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے وہ مشاہدے کے بعد کی ہے۔
لیکن اس روایت میں یہ سقم تھا کہ اگرچہ اس میں ہشام نے ا پنے باپ عروہ سے تصریح سماع کردی ہے۔
تاہم حضرت عروہ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ سے بصیغہ"عن" روایت کی ہے۔
تیسری روایت بیان کرکے امام بخاری ؒ نے (عَنعَنَه)
کی بجائے سماع کی تصریح نقل کردی ہے، کیونکہ عنعنہ میں احتمال كی حدتک انقطاع کا شائبہ رہ جاتا ہے۔
نیز آخری دوروایات میں اس جگہ کی بھی تعین کردی گئی ہے جہاں راوی حدیث نے اس عمل کامشاہدہ کیاتھا اور وہ حضرت ام سلمہ ؓ کا گھر ہے اور حضرت ام سلمہ ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں، نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہواکہ مخالفت طرفین اوراشتمال دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 608/1)

علامہ ابن بطال ؒ نے مصنف عبدالرزاق (356/1)
کے حوالے سے حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق مناظرہ نقل کیاہے۔
حضرت ابی بن کعب کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اس لیے آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا موقف تھا کہ ایساکرنا اضطراری حالات کے پیش نظر تھا، جب لوگوں کے ہاں کشادگی اوروسعت نہ تھی۔
آج جب حالات ناگفتہ بہ نہیں ہیں تو نماز کے لیے مکمل لباس پہننا ہوگا۔
حضرت عمر ؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر فیصلہ فرمایاکہ بات تو حضرت ابی ؓ کی صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی اجتہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔
(شرح البخاري: 21/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 355 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 356 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
356. حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ ہی سے ایک اور روایت ہے، انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک کپڑا لپیٹ کر نماز پڑھتے دیکھا جس کے دونوں کنارے آپ نے اپنے دونوں کندھوں پر ڈال رکھے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:356]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؓ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ ؓ کی تین روایات ذکر کی ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ان کی حکمت بایں الفاظ ذکر کی ہے: پہلی روایت کی سند عالی ہے، کیونکہ اس میں امام بخاری ؒ اورراوی حدیث حضرت عمر بن ابی سلمہؓ کے درمیان تین واسطے ہیں، اگرچہ علومطلق نہیں، بلکہ نسبی ہے، کیونکہ دوسری اور تیسری روایت کے مقابلے میں علو پایا جاتا ہے۔
تاہم سند گو عالی ہے لیکن اس میں ر اوی حدیث نے اپنے مشاہدے کی صراحت نہیں کی۔
اس کے علاوہ اس میں بصیغہ "عن" روایت کی گئی ہے۔
امام بخاری ؒ نے دوسری سافل سند ذکر کرکے راوی کے مشاہدے کی تصریح نقل کردی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ راوی نے جو رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہے وہ مشاہدے کے بعد کی ہے۔
لیکن اس روایت میں یہ سقم تھا کہ اگرچہ اس میں ہشام نے ا پنے باپ عروہ سے تصریح سماع کردی ہے۔
تاہم حضرت عروہ نے حضرت عمر بن ابی سلمہ سے بصیغہ"عن" روایت کی ہے۔
تیسری روایت بیان کرکے امام بخاری ؒ نے (عَنعَنَه)
کی بجائے سماع کی تصریح نقل کردی ہے، کیونکہ عنعنہ میں احتمال كی حدتک انقطاع کا شائبہ رہ جاتا ہے۔
نیز آخری دوروایات میں اس جگہ کی بھی تعین کردی گئی ہے جہاں راوی حدیث نے اس عمل کامشاہدہ کیاتھا اور وہ حضرت ام سلمہ ؓ کا گھر ہے اور حضرت ام سلمہ ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں، نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہواکہ مخالفت طرفین اوراشتمال دونوں کا ایک ہی مفہوم ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 608/1)

علامہ ابن بطال ؒ نے مصنف عبدالرزاق (356/1)
کے حوالے سے حضرت ابی بن کعب ؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق مناظرہ نقل کیاہے۔
حضرت ابی بن کعب کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اس لیے آج بھی اس پر عمل کیا جاسکتا ہے جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا موقف تھا کہ ایساکرنا اضطراری حالات کے پیش نظر تھا، جب لوگوں کے ہاں کشادگی اوروسعت نہ تھی۔
آج جب حالات ناگفتہ بہ نہیں ہیں تو نماز کے لیے مکمل لباس پہننا ہوگا۔
حضرت عمر ؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر فیصلہ فرمایاکہ بات تو حضرت ابی ؓ کی صحیح ہے، البتہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے بھی اجتہاد کرنے میں کوتاہی نہیں کی۔
(شرح البخاري: 21/2)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 356 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 517 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمر ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا، آپﷺ اسے لپیٹے ہوئے تھے، اور اس کے دونوں کنارے، آپﷺ کندھوں پر رکھے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1152]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
مُشْتَمِلٌ، مُتَوَشِّحٌ اور (مخَالِفٌ بَيْنَ طَرَفَيْهِ)
تینوں ہم معنی ہیں، جس کا مقصد یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ دائیں کندھے پر ڈالا ہے، اس کو بائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جائے اور جو کنارہ بائیں کندھے پر رکھنا ہے اس کو دائیں ہاتھ کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو سینہ پر باندھ لے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 517 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 339 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا، کہ آپ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 339]
اردو حاشہ:
1؎:
شیخین کی روایت میں ((وَاضِعاً طَرَفَيْهِ عَلى عَاتِقَيْهِ)) کا اضافہ ہے یعنی آپ اس کے دونوں کنارے اپنے دونوں کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے، اس سے ثابت ہوا کہ اگر ایک کپڑے میں بھی نماز پڑھے تو دونوں کندھوں کو ضرور ڈھانکے رہے، ورنہ نماز نہیں ہو گی، اس بابت بعض واضح روایات مروی ہیں، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آپ نے اس وقت سر کو نہیں ڈھانکا تھا، ایک کپڑے میں سر کو ڈھانکا ہی نہیں جاسکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 339 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 581 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
581-سیدنا عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑا اوڑھ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:581]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ ستر اور کندھے ڈھکے ہوئے ہوں نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے، ربیب بیٹے کو گھر میں رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 581 سے ماخوذ ہے۔