سنن نسائي
كتاب القبلة— کتاب: قبلہ کے احکام و مسائل
بَابُ : الصَّلاَةِ إِلَى ثَوْبٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ باب: تصویر والے کپڑے کی جانب (رخ کر کے) نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قالت : كَانَ فِي بَيْتِي ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ فَجَعَلْتُهُ إِلَى سَهْوَةٍ فِي الْبَيْتِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ أَخِّرِيهِ عَنِّي " ، فَنَزَعْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو “ ، تو میں نے اسے اتار لیا ، اور اس کے تکیے بنا ڈالے ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القبلة / حدیث: 762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2479 | صحيح البخاري: 5952 | صحيح مسلم: 2107 | سنن ترمذي: 2468 | سنن ابي داود: 4151 | سنن نسائي: 5354 | سنن نسائي: 5355 | سنن نسائي: 5356 | سنن نسائي: 5357 | سنن ابن ماجه: 3653
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´تصویر والے کپڑے کی جانب (رخ کر کے) نماز پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو “، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 762]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، میں نے اسے گھر کے ایک روشندان پر لٹکا دیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرح (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! اسے میرے پاس سے ہٹا دو “، تو میں نے اسے اتار لیا، اور اس کے تکیے بنا ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 762]
762۔ اردو حاشیہ: تصویریں یا تصویر والے کپڑے گھر میں لٹکانا منع ہے، خصوصاً جب کہ نماز میں وہ آگے ہوں۔ ہاں، اگر انہیں پھاڑ کر تکیے یا چٹائی وغیرہ بنا لی جائے تو جائز ہے کیونکہ اس میں ان کی توہین ہے۔ احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر تصویریں ڈھانپ دی جائیں اور وہ نظر نہ آتی ہوں تو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ لیکن جہاں انہیں زائل کرنا بس میں نہ ہو، وہاں اس کی گنجائش ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 762 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2479 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2479. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے اپنے حجرے کے دروازے پر ایک کپڑا لٹکایا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ نبی ﷺ نے اسے پھاڑ ڈالا تو حضرت عائشہ ؓ نے اس کپڑے کے دوگاؤ تکیے بنالیے جو گھرمیں رہے۔ ان پر آپ ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2479]
حدیث حاشیہ: مسلمانوں پرلازم ہے کہ اپنے گھروں میں جان دارتصاویر کے ایسے پردے غلاف وغیرہ نہ رکھیں، بلکہ ان کوختم کرڈالیں۔
یہ شرعاً وقانوناً بالکل ناجائز ہیں۔
یہ شرعاً وقانوناً بالکل ناجائز ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2479 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2479 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2479. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے اپنے حجرے کے دروازے پر ایک کپڑا لٹکایا جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ نبی ﷺ نے اسے پھاڑ ڈالا تو حضرت عائشہ ؓ نے اس کپڑے کے دوگاؤ تکیے بنالیے جو گھرمیں رہے۔ ان پر آپ ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2479]
حدیث حاشیہ:
(1)
تصویر کا سر کاٹ کر اسے درخت کی طرح بنا دیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے اور جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اگر وہ پاؤں تلے روندی جاتی ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
(2)
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں جاندار تصاویر کے پردے نہ لٹکائیں بلکہ انہیں ختم کر دیں۔
ایسی تصاویر شرعاً ناجائز اور حرام ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3322)
ہاں انہیں پاؤں تلے روندنے کی صورت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے جیسا کہ تکیے بنانے سے ظاہر ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
تصویر کا سر کاٹ کر اسے درخت کی طرح بنا دیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے اور جس کپڑے پر تصویر بنی ہو اگر وہ پاؤں تلے روندی جاتی ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
(2)
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں میں جاندار تصاویر کے پردے نہ لٹکائیں بلکہ انہیں ختم کر دیں۔
ایسی تصاویر شرعاً ناجائز اور حرام ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: جس گھر میں تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
(صحیح البخاري، بدءالخلق، حدیث: 3322)
ہاں انہیں پاؤں تلے روندنے کی صورت میں برقرار رکھا جا سکتا ہے جیسا کہ تکیے بنانے سے ظاہر ہوتا ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2479 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5952 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5952. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی ایسی چیز ملتی جس میں صلیب کی تصویر ہوتی تو آپ اسے توڑ ڈالتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5952]
حدیث حاشیہ: حالانکہ صلیب جاندار چیز نہیں ہے مگر نصاریٰ خصوصاً رومن کیتھولک صلیب کی پرستش کرتے ہیں۔
اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جہاں پاتے توڑ ڈالتے، اللہ کے سوا جو چیز پوجی جائے اس کا یہی حکم ہے، اس کو توڑ پھوڑ کر برا بر کر دینا چاہیئے تاکہ دنیا میں شرک نہ پھیلے۔
صلیب پر تعزیہ کو بھی قیاس کرنا چاہیئے۔
صلیب تو ایک پیغمبر کے واقعہ کی تصویر ہے اور تعزیہ میں تو یہ بات بھی نہیں ہے وہ صرف ایک مقبرہ کی مثل ہوتی ہے لیکن عوام اس کی پرستش کرتے ہیں، اس کے سامنے جھکتے ہیں، اس پر نذر ونیاز چڑھا تے ہیں، اسی طرح سدے علم وغیرہ ان سب کا توڑ پھینکنا ضروری ہے۔
اسلامی شریعت میں اللہ کے سوا کسی کی پوجا جائز نہیں ہے جن بزرگوں اور اولیاء کی قبور مثل مساجد بنا کر پرستش گاہ بنی ہوئی ہیں ان کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ جو بلند قبر دیکھیں اس کو برابر کر دیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں ابوالسیاج اسدی کو بھی یہی حکم دیا تھا۔
اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جہاں پاتے توڑ ڈالتے، اللہ کے سوا جو چیز پوجی جائے اس کا یہی حکم ہے، اس کو توڑ پھوڑ کر برا بر کر دینا چاہیئے تاکہ دنیا میں شرک نہ پھیلے۔
صلیب پر تعزیہ کو بھی قیاس کرنا چاہیئے۔
صلیب تو ایک پیغمبر کے واقعہ کی تصویر ہے اور تعزیہ میں تو یہ بات بھی نہیں ہے وہ صرف ایک مقبرہ کی مثل ہوتی ہے لیکن عوام اس کی پرستش کرتے ہیں، اس کے سامنے جھکتے ہیں، اس پر نذر ونیاز چڑھا تے ہیں، اسی طرح سدے علم وغیرہ ان سب کا توڑ پھینکنا ضروری ہے۔
اسلامی شریعت میں اللہ کے سوا کسی کی پوجا جائز نہیں ہے جن بزرگوں اور اولیاء کی قبور مثل مساجد بنا کر پرستش گاہ بنی ہوئی ہیں ان کے لیے بھی یہی حکم ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ جو بلند قبر دیکھیں اس کو برابر کر دیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں ابوالسیاج اسدی کو بھی یہی حکم دیا تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5952 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5952 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5952. سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی ایسی چیز ملتی جس میں صلیب کی تصویر ہوتی تو آپ اسے توڑ ڈالتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5952]
حدیث حاشیہ:
(1)
عیسائی لوگ صلیب کی عبادت کرتے ہیں، حالانکہ یہ جاندار نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کہیں اس کی تصویر دیکھتے اسے ختم کر دیتے تاکہ دنیا میں شرک کا دروازہ بند ہو جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کی عبادت کی جاتی ہو اسے گھر میں رکھنا جائز نہیں بلکہ اس کا توڑنا ضروری ہے۔
صلیب پر تعزیہ کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔
صلیب تو ایک پیغمبر کے واقعے کی تصویر ہے لیکن تعزیے میں تو یہ بات بھی نہیں ہے۔
وہ تو مصنوعی طور پر ایک مقبرے کی شبیہ ہوتی ہے لیکن عوام اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کے سامنے جھکتے ہیں، اس پر نذرونیاز چڑھاتے ہیں، ان سب چیزوں کا توڑ پھینکنا ضروری ہے۔
(2)
عنوان میں تصاویر توڑنے کا بیان تھا جبکہ حدیث میں صلیب توڑنے کا بیان ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صلیب کے توڑنے سے تصویروں کو ختم کرنے کا استنباط کیا ہے کیونکہ ان میں قدر مشترک اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی پوجا کرنا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عنوان میں تصاویر سے مراد وہی تصویریں ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کی جاتی ہے، خواہ وہ جاندار کی ہوں یا بے جان چیزوں کی۔
(فتح الباري: 473/10)
ہمارے رجحان میں بھی یہی ہے کہ ایسے درخت یا پہاڑ جن کی لوگ عبادت کرتے ہوں ان کی تصاویر لٹکانا بھی جائز نہیں، ہاں جن کی عبادت نہیں ہوتی اگر وہ کسی بے جان کی تصاویر ہیں تو انہیں رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(1)
عیسائی لوگ صلیب کی عبادت کرتے ہیں، حالانکہ یہ جاندار نہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کہیں اس کی تصویر دیکھتے اسے ختم کر دیتے تاکہ دنیا میں شرک کا دروازہ بند ہو جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس چیز کی عبادت کی جاتی ہو اسے گھر میں رکھنا جائز نہیں بلکہ اس کا توڑنا ضروری ہے۔
صلیب پر تعزیہ کو بھی قیاس کیا جا سکتا ہے۔
صلیب تو ایک پیغمبر کے واقعے کی تصویر ہے لیکن تعزیے میں تو یہ بات بھی نہیں ہے۔
وہ تو مصنوعی طور پر ایک مقبرے کی شبیہ ہوتی ہے لیکن عوام اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کے سامنے جھکتے ہیں، اس پر نذرونیاز چڑھاتے ہیں، ان سب چیزوں کا توڑ پھینکنا ضروری ہے۔
(2)
عنوان میں تصاویر توڑنے کا بیان تھا جبکہ حدیث میں صلیب توڑنے کا بیان ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صلیب کے توڑنے سے تصویروں کو ختم کرنے کا استنباط کیا ہے کیونکہ ان میں قدر مشترک اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی پوجا کرنا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ عنوان میں تصاویر سے مراد وہی تصویریں ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کی جاتی ہے، خواہ وہ جاندار کی ہوں یا بے جان چیزوں کی۔
(فتح الباري: 473/10)
ہمارے رجحان میں بھی یہی ہے کہ ایسے درخت یا پہاڑ جن کی لوگ عبادت کرتے ہوں ان کی تصاویر لٹکانا بھی جائز نہیں، ہاں جن کی عبادت نہیں ہوتی اگر وہ کسی بے جان کی تصاویر ہیں تو انہیں رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5952 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4151 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کپڑے میں صلیب کی صورت بنی ہو تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4151]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4151]
فوائد ومسائل:
گھر میں، کپڑے پر غیر جاندار چیزوں کی تصویر ہو تو کوئی حر ج نہیں، مگر صلیب کا نشان بے روح ہی سہی چونکہ اس کی عبادت ہوتی ہے، اس لئے اس کا زائل کرنا واجب ہے۔
اسی طرح ایسے درخت اور پہاڑ وغیرہ جن کی لوگ عبادت کرتے ہوں ان کا تصاویر لٹکانا بھی درست نہیں ہے۔
گھر میں، کپڑے پر غیر جاندار چیزوں کی تصویر ہو تو کوئی حر ج نہیں، مگر صلیب کا نشان بے روح ہی سہی چونکہ اس کی عبادت ہوتی ہے، اس لئے اس کا زائل کرنا واجب ہے۔
اسی طرح ایسے درخت اور پہاڑ وغیرہ جن کی لوگ عبادت کرتے ہوں ان کا تصاویر لٹکانا بھی درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4151 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5356 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تصویروں اور مجسموں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ۱؎، چنانچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ” عائشہ! اسے ہٹا دو “، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5356]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے گھر میں ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ۱؎، چنانچہ میں نے اسے گھر کے ایک روشندان میں لٹکا دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ” عائشہ! اسے ہٹا دو “، پھر میں نے اسے نکال دیا اور اس کے تکیے بنا دیے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5356]
اردو حاشہ: ”تصویریں“ ممکن ہے غیر ذی روح کی تصویریں ہوں مگر نماز میں قبلہ کی جانب نقش و نگار توجہ بٹنے کا سبب بن جاتے ہیں، اس لیے ہٹانے کا حکم دیا۔ اور اگر ذی روح کی تصویریں تھیں تو پھر ایسا کپڑا احترام والی جگہ لٹکانا ناجائز تھا، اس لیے اتار کر تصویریں کاٹنے کا حکم دیا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5356 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5355 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تصویروں اور مجسموں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! اسے بدل دو، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے “، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5355]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس ایک پردہ تھا جس پر چڑیا کی شکل بنی ہوئی تھی جب کوئی آنے والا آتا تو وہ ٹھیک سامنے پڑتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عائشہ! اسے بدل دو، اس لیے کہ جب میں اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو دنیا یاد آتی ہے “، ہمارے پاس ایک چادر تھی جس میں نقش و نگار تھے، ہم اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ لیکن اسے ہم نے کاٹا نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5355]
اردو حاشہ: (1) یہ حدیث مبارکہ دنیا کی رنگینیوں سے کنارہ کشی اور اس سے بے رغبتی پر دلالت کرتی ہے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ بوقت ضرورت پردہ وغیرہ لٹکانا درست ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پردے میں تصویر نہ بنی ہو۔
(3) ”توجہ دنیا کی طرف ہو جاتی ہے“ کیونکہ وہ زینت کے لیے لٹکایا گیا تھا اور دنیوی زینت تھی۔ ظاہر ہے توجہ اس طرف ہونا تو لازمی امر تھا وہاں سے آپ گزرتے تھے۔ اگرچہ آپ کے دل میں کراہت ہوتی تھی، توجہ کراہت کے منافی نہیں۔ دنیا سے محبت مذموم ہے نہ کہ توجہ بہ کراہت۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ بوقت ضرورت پردہ وغیرہ لٹکانا درست ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پردے میں تصویر نہ بنی ہو۔
(3) ”توجہ دنیا کی طرف ہو جاتی ہے“ کیونکہ وہ زینت کے لیے لٹکایا گیا تھا اور دنیوی زینت تھی۔ ظاہر ہے توجہ اس طرف ہونا تو لازمی امر تھا وہاں سے آپ گزرتے تھے۔ اگرچہ آپ کے دل میں کراہت ہوتی تھی، توجہ کراہت کے منافی نہیں۔ دنیا سے محبت مذموم ہے نہ کہ توجہ بہ کراہت۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5355 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5357 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´تصویروں اور مجسموں کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو اسے نکال دیا، چنانچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے: نے کہا میں نے ابو محمد، یعنی قاسم کو، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5357]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکایا جس میں تصویریں تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے تو اسے نکال دیا، چنانچہ میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا دیے۔ اس وقت مجلس میں بیٹھے ایک شخص نے جسے ربیعہ بن عطا کہا جاتا ہے: نے کہا میں نے ابو محمد، یعنی قاسم کو، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے سنا، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ٹیک لگاتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5357]
اردو حاشہ: (1) رسول اللہ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے تصاویر والا پردہ ہٹا دیا اور اس طرح آپ نے اپنے ہاتھ سے ازالۂ منکر فرمایا۔ جہاں ہاتھ سے برائی ختم کی جا سکتی ہو، وہاں اسے ہاتھ سے ختم کرنا ضروری ہے۔ اور آپ نے ایسے ہی کیا۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر تصویر والے کپڑے کو اس طرح کاٹ دیا جائے کہ تصویریں کٹ جائیں اور ثابت نہ رہیں تو وہ کپڑا فرشی استعمال میں لایا جا سکتا ہے، یعنی اس سے تکیے، سرہانے گدے وغیرہ بنائے جا سکتے ہیں۔ واللہ أعلم
(2) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر تصویر والے کپڑے کو اس طرح کاٹ دیا جائے کہ تصویریں کٹ جائیں اور ثابت نہ رہیں تو وہ کپڑا فرشی استعمال میں لایا جا سکتا ہے، یعنی اس سے تکیے، سرہانے گدے وغیرہ بنائے جا سکتے ہیں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5357 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3653 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تصویروں کو پامال اور روندی جانے والی جگہوں میں رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دروازے کھڑکی یا طاقچے وغیرہ پر تصویروں والا پردہ لٹکانا منع ہے۔
(2)
دیوار پر پردہ لٹکانا بھی منع ہے۔
(3)
تصویروں والا کپڑا اس انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے تصویروں کی بے قدری کا اظہار ہو مثلاً: بستر پر بچھانے والی چادر یا بیٹھنے کے لیے کرسیوں کے گدے وغیرہ بنا لیے جائیں۔
(4)
جاندار چیزکی تصویر اس انداز سے رکھنا منع ہے جس سے اس کو اہمیت دینے کا اظہار ہوتا ہو مثلاً: کمرے کی سجاوٹ کے لیے فریم شدہ تصاویرلگانا یا تصویروں والی شرٹ اور قمیض پہننا یا کوئی مجسم تصویر ڈیکوریشن پیس کے طور پر رکھنا وغیرہ۔
(5)
خلاف شریعت چیز کو خراب کر دینا جائز ہے اور اس چیز کا مالک کسی ہرجانہ وغیرہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
فوائد و مسائل:
(1)
دروازے کھڑکی یا طاقچے وغیرہ پر تصویروں والا پردہ لٹکانا منع ہے۔
(2)
دیوار پر پردہ لٹکانا بھی منع ہے۔
(3)
تصویروں والا کپڑا اس انداز سے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے تصویروں کی بے قدری کا اظہار ہو مثلاً: بستر پر بچھانے والی چادر یا بیٹھنے کے لیے کرسیوں کے گدے وغیرہ بنا لیے جائیں۔
(4)
جاندار چیزکی تصویر اس انداز سے رکھنا منع ہے جس سے اس کو اہمیت دینے کا اظہار ہوتا ہو مثلاً: کمرے کی سجاوٹ کے لیے فریم شدہ تصاویرلگانا یا تصویروں والی شرٹ اور قمیض پہننا یا کوئی مجسم تصویر ڈیکوریشن پیس کے طور پر رکھنا وغیرہ۔
(5)
خلاف شریعت چیز کو خراب کر دینا جائز ہے اور اس چیز کا مالک کسی ہرجانہ وغیرہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3653 سے ماخوذ ہے۔