حدیث نمبر: 754
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال : قال ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، قال : " زَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبَّاسًا فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَلَنَا كُلَيْبَةٌ وَحِمَارَةٌ تَرْعَى ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَمْ يُزْجَرَا وَلَمْ يُؤَخَّرَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک بادیہ میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے ، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی ، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی ، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں ، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القبلة / حدیث: 754
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (718) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 326
تخریج حدیث «(اس کے راوی ’’محمد بن عمر‘‘ لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت ثقات کی روایات کے خلاف ہے) (منکر) سنن ابی داود/الصلاة 114 (718)، (تحفة الأشراف: 11045)، مسند احمد 1/211، 212»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو کون سی چیز نماز توڑ دیتی ہے اور کون سی نہیں توڑتی؟`
فضل بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایک بادیہ میں عباس رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے، وہاں ہماری ایک کتیا موجود تھی، اور ہماری ایک گدھی چر رہی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، اور وہ دونوں آپ کے آگے موجود تھیں، تو انہیں نہ ہانکا گیا اور نہ ہٹا کر پیچھے کیا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 754]
754۔ اردو حاشیہ: یہاں سترے کا ذکر ہے نہ کتیا کے سیاہ ہونے کی صراحت، لہٰذا جانبین کے لیے استدلال درست نہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایت ہے بھی ضعیف۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 754 سے ماخوذ ہے۔