سنن نسائي
كتاب القبلة— کتاب: قبلہ کے احکام و مسائل
بَابُ : مِقْدَارِ ذَلِكَ باب: سترہ سے کتنے فاصلہ پر کھڑا ہو؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً ، عَلَيْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قال : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ : " مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ، ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کعبہ کے اندر ) کیا کیا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا ( ستون ) اپنے بائیں طرف کیا ، دو کھمبے اپنے دائیں طرف ، اور تین کھمبے اپنے پیچھے ، ( ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی ، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کعبہ کے اندر) کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا (ستون) اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے، (ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 750]
➋ آج کل کعبے میں ستون نہیں ہیں۔
➌ ایک ہاتھ ڈیڑھ فٹ کا ہوتا ہے۔ تین ہاتھ تقریباً ساڑھے چار فٹ ہوئے۔ سجدے کے لیے عام صف چار یا ساڑھے چار فٹ ہی ہوتی ہے، گویا آپ کا سجدہ دیوار کے بالکل قریب پڑتا تھا، اس لیے سترہ سجدے والی جگہ سے تقریباً متصل ہونا چاہیے۔ بعض احادیث میں سجدے کی جگہ اور سترے کے درمیان سے بکری گزرنے کا فاصلہ ذکر ہے۔ ظاہر ہے بکری تنگ جگہ سے بھی گزر جاتی ہے، اس کے لیے زیادہ جگہ درکار نہیں۔ مزید فوائد کے لیے دیکھیے حدیث: 693۔