حدیث نمبر: 748
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قال : أَنْبَأَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ " يَرْكُزُ الْحَرْبَةَ ثُمَّ يُصَلِّي إِلَيْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے سامنے ) نیزہ گاڑتے تھے ، پھر اس کی طرف ( رخ کر کے ) نماز پڑھتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: کھلا میدان ہو یا بند مکان، حتیٰ کہ مسجد میں بھی امام اور منفرد سب کے لیے سترہ فرض ہے، مساجد میں دیوار، کھمبا یا کسی آدمی ہی کو سہی سترہ بنا لے، تو وہ آدمی اس کی نماز ختم ہونے تک اس کے سامنے بیٹھا رہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب القبلة / حدیث: 748
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الصلاة 92 (498)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8172)، مسند احمد 2/13، 18، 142، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے سامنے) نیزہ گاڑتے تھے، پھر اس کی طرف (رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 748]
748۔ اردو حاشیہ: ➊ سترے سے مراد وہ چیز ہے جو نمازی کی نماز کو شیطان اور گزرنے والوں سے محفوظ کرے۔ سترہ نمازی کے خیالات کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے، بشرطیکہ نظر سترے سے تجاوز نہ کرے جیسا کہ مسنون ہے۔ اسی طرح سترہ نمازی کے آگے سے گزرنے والوں کے اثرات بد سے نماز اور نمازی کو محفوظ کرتا ہے۔ نمازی کے آگے سے گزرنا نمازی کے خشوع و خضوع کو ختم کرتا ہے اور گزرنے والے کو گناہ گار بناتا ہے۔ سترے کے آگے سے گزرنا نمازی اور گزرنے والے کو ان دونوں چیزوں سے بچاتا ہے۔
➋ اکیلے نمازی کو اگر وہ کھلی جگہ نماز پڑھ رہا ہے تو اسے اپنے سامنے سترہ رکھنا چاہیے۔ امام کے پیچھے ہو تو صرف امام کے سامنے سترے کا ہونا کافی ہے۔ پہلے سے موجود چیز بھی سترہ بن سکتی ہے جیسے ستون وغیرہ۔
➌ سترہ تقریباً ڈیڑھ فٹ اونچا اور اتنا موٹا ہونا چاہیے کہ دور سے صاف نظر آئے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو پتا ہی نہ چلے۔ پالان کی پچھلی لکڑی بھی تقریباً ڈیڑھ فٹ اونچی ہوتی ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 748 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 498 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
498. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے لیے نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:498]
حدیث حاشیہ:
حربہ اس نیزے کو کہتے ہیں جس کا پیکان نوک دار ہو۔
عام طور پر شارحین نے مقصد عنوان سے بحث نہیں کی۔
البتہ نماز میں بت پرستوں کی مشابہت سے اجتناب کرنا شریعت کاایک اصول ہے۔
چونکہ ہتھیار ایک ایسی چیز ہے جس کی بعض فرقوں کے ہاں تعظیم کی جاتی ہے، ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ یہ بتانا چاہتے ہوں کہ شریعت میں اس قسم کے تصوف کی کوئی حیثیت نہیں، بلکہ شریعت کی روسے ہتھیاروں کو آگے نصب کرکے نماز پڑھی جاسکتی ہے، اس میں نہ کوئی تشبه ہے اور نہ ان کی تعظیم ہی مقصود ہوتی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 498 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 494 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
494. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (مدینے سے) باہر تشریف لے جائے تو چھوٹا نیزہ گاڑنے کا حکم دیتے۔ جب اس کی تعمیل کر دی جاتی تو آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔ دوران سفر میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (مسلمانوں کے) خلفاء نے بھی اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت اپنا لی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:494]
حدیث حاشیہ:

اس روایت سے امام بخاری ؒ کا قائم کردہ عنوان اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب عیدین کی نماز پڑھانے کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو نیزہ وغیرہ آپ کے ساتھ ہوتا اور آپ کے سامنے نصب کردیاجاتا، پھر آپ نماز پڑھاتے، اسی سترے کو مقتدیوں کے لیے بھی کافی خیال کیاجاتا تھا، کیونکہ مقتدیوں کے لیے الگ سترے کا ہونا کسی روایت سے ثابت نہیں، نیز یہ بھی تفصیل نہیں کہ نیزے کو صرف امام کے لیے سترہ مانا جائے، پھر امام کو قوم کے حق میں سترہ قرار دیا جائے۔

سعد القرظ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیزہ حضرت نجاشی نے رسول اللہ ﷺ کو بطور ہدیہ بھیجا تھا جسے آپ نے اس طرح کی ضروریات کے لیے استعمال فرمایا جبکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیزہ حضرت زبیر بن عوام ؓ کو غزوہ احد میں ایک مشرک سے ہاتھ لگا تھا جسے رسول اللہ ﷺ نے ان سے لے لیا۔
حافظ ابن حجر ؒ نے ان دونوں روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ پہلے حضرت زبیر بن عوام ؓ والا نیزہ استعمال ہوتا تھا۔
پھر نجاشی کا ہبہ کیا ہوا نیزہ استعمال ہونے لگا۔
(فتح الباري: 741/1)

رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں نیزہ وغیرہ کے ساتھ رکھنے میں مختلف مصلحتیں تھیں جن میں ایک مصلحت یہ تھی کہ اسے کھلے میدان میں نماز کے وقت بطور سترہ استعمال کیا جاتا تھا، نیزبوقت ضرورت دشمن سے بچاؤ کے بھی کام آسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 494 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 972 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
972. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:972]
حدیث حاشیہ: کیونکہ عید میدان میں پڑھی جاتی تھی اور میدان میں نماز پڑھنے کے لیے سترہ ضروری ہے، اس لیے چھوٹا سا نیزہ لے لیتے تھے جو سترہ کے لیے کافی ہو سکے اور اسے آنحضور ﷺ کے سامنے گاڑ دیتے تھے۔
نیزہ اس لیے لیتے تھے کہ اسے گاڑ نے میں آسانی ہوتی تھی۔
امام بخاری ؒ اس سے پہلے لکھ آئے ہیں کہ عید گاہ میں ہتھیار نہ لے جانا چاہیے۔
یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ضرورت ہو تو لے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ خود آنحضور ﷺ کے سترہ کے لیے نیزہ لے جایا جاتا تھا (تفہیم البخاری)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 972 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
972. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر نیزہ گاڑ دیا جاتا تھا، پھر آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:972]
حدیث حاشیہ:
(1)
پہلے ایک باب میں امام بخاری ؒ نے ثابت کیا تھا کہ عید کے دن ہتھیار اٹھانا منع ہے جبکہ اس حدیث سے اس کا جواز ثابت کیا ہے۔
چونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کوئی تعمیر شدہ عیدگاہ نہیں تھی بلکہ آپ کھلے میدان میں نماز ادا کرتے تھے، اس لیے نیزہ وغیرہ اپنے ساتھ لے جانے کا حکم دیتے تاکہ اس سے سترے کا کام لیا جائے۔
ایسے حالات میں کوئی چیز ساتھ لے جانے کی ممانعت نہیں۔
اگر اس کی ضرورت نہ ہو تو محض نمائش کے لیے آلات حرب ساتھ لے جانا جائز نہیں تاکہ اجتماع اور بھیڑ کی وجہ سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
(2)
واضح رہے کہ امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی حضرات کا بھی سترہ ہے، انہیں مستقل طور پر اپنا سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 973 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
973. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ صبح سویرے عیدگاہ کی طرف تشریف لے جاتے اور نیزہ آپ کے آگے آگے اٹھایا جاتا تھا، اسے عیدگاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:973]
حدیث حاشیہ: تشریح اوپر گزر چکی ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ عیدین کی نماز جنگل (میدان)
میں پڑھا کرتے تھے پس مسنون یہی ہے جو لوگ بلا عذر بار ش وغیرہ مساجد میں عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں وہ سنت کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 973 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 973 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
973. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ صبح سویرے عیدگاہ کی طرف تشریف لے جاتے اور نیزہ آپ کے آگے آگے اٹھایا جاتا تھا، اسے عیدگاہ میں آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:973]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ کے زمانے میں یہ بات عام ہو چکی تھی کہ بادشاہ وقت جب عیدین کی نماز کے لیے عید گاہ جاتا تو لوگ اس کے آگے ہتھیار اٹھا کر چلتے تھے۔
امام بخاری ؒ نے اس کا جواز ثابت کیا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز عید کے لیے نکلتے تھے تو نیزہ ساتھ لے کر جانے کا حکم فرماتے تھے۔
اسے عیدگاہ پہنچ کر آپ کے سامنے گاڑ دیا جاتا تو آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور باقی لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔
دوران سفر میں بھی ایسا کرتے تھے۔
اسی سے امراء نے یہ طریقہ اختیار کر لیا تھا۔
(2)
ازدحام میں ایسا کرنا منع ہے کیونکہ ایسے موقع پر کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
اس کا سبب خوف ہلاکت ہے۔
لیکن جب کوئی شخص امام کے آگے ہتھیار اٹھا کر جا رہا ہے جس سے کسی کو تکلیف کا خطرہ نہیں تو اس صورت میں اسلحہ اٹھانا جائز ہے، کیونکہ اس میں علت نہی نہیں پائی جاتی۔
منع کی صورت اس کے برعکس ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 973 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 501 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ عید کے دن باہر نکلتے تو نیزہ اپنے آگے گاڑنے کا حکم دیتے اور اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپﷺ کے پیچھے ہوتے سفر میں بھی آپﷺ ایسا ہی کرتے۔ اسی بنا پر حکام نیزہ رکھتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1115]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: سترہ کا مقصد یہ ہے کہ نمازی کے سامنے کوئی چیز آڑ یا رکاوٹ کے لیے رکھی جائے تاکہ نمازی کی نظر اس سے پہلے پڑے اور اس کے پرے سے گزرنے والے سے اس کی نماز متاثر نہ ہو اور یہ تبھی ممکن ہے کہ نماز بلاوجہ اپنی نظر سجدہ گاہ سے نہ ہٹائے اور اگر انسان جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو تو پھر امام کا سترہ ہی کافی ہے ہر نماز کو الگ سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور اس کی ضرورت مسجد سے باہر کھلی جگہ میں پیش آئے گی جیسا کہ آپﷺ عیدین اور سفر کے موقع پر آگے نیز ہ نصب کرواتے تھے مسجد میں دیوار ہی امام کے لیے سترہ ہے سترہ کی تعداد آپﷺ نے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کو قرار دیا ہے اور یہ ایک ہاتھ یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 501 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 687 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن نکلتے تو برچھی (نیزہ) لے چلنے کا حکم دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی جاتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف چہرہ مبارک کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے، اور ایسا آپ سفر میں کرتے تھے، اسی وجہ سے حکمرانوں نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 687]
687۔ اردو حاشیہ:
یعنی امراء و حکام لوگ جو عید وغیرہ کے موقع پر بھالا، نیزہ وغیرہ لے کر نکلنے کا اہتمام کرتے ہیں اس کی اصل یہی ہے۔ نماز فرض ہو یا نفل، سفر ہو یا حضر، ہر موقع پر سترے کا خیال رکھنا چاہیے۔ نیز امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے بھی کافی ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 687 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1566 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´عیدین کی نماز نیزہ سامنے رکھ کر پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1566]
1566۔ اردو حاشیہ: ➊ باب کا مفہوم یہ ہے کہ کھلی جگہ میں امام کے آگے سترہ ہونا چاہیے تاکہ کسی کے گزرنے سے نماز نہ ٹوٹ جائے۔
➋ سترے کی غرض سے نیزہ وغیرہ لے جایا جا سکتا ہے اگرچہ آپ نے بھیڑ کے موقع پر اسلحہ لے جانے سے روکا ہے کیونکہ کسی کو اتفاقاً زخم بھی لگ سکتا ہے، البتہ صرف امام کے ساتھ نیزہ ہو تو ایسا کوئی خطرہ نہیں، لہٰذا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1566 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1305 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1305]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  سترہ صرف عید کی نماز کے لئے خاص نہیں۔
دوسری کوئی نماز بھی جب مسجد کے باہر ادا کی جائے۔
مثلاً سفر میں۔
۔
۔
تو امام کے سامنے سترہ ہونا چاہیے۔

(2)
مقتدیوں کے لئے الگ سترے کی ضرورت نہیں۔
ہاں جب مقتدی علیحدہ سنتیں وغیرہ پڑھیں گے۔
تو ان کےلئے الگ سترہ ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1305 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 941 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے سترہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سفر میں نیزہ لے جایا جاتا اور اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا، آپ اس کی جانب نماز پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 941]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریمﷺ سفر میں بھی سترے کا اہتمام فرماتے تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 941 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1304 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عید کے دن (عیدگاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1304]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (عنزۃ)
چھوٹے نیزے یا برچھی کوکہتے ہیں۔

(2)
نماز میں امام کے سامنے سترہ ہونا چاہیے۔
مسجد میں دیوار ہی کافی ہے۔
جبکہ میدان میں کوئی اور چیز رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

(4)
بزرگ شخصیت کے لئے اس کی ضرورت کی چیز اٹھا کر لے جانا اور اس طرح کی دوسری خدمت انجام دینا احترام میں شامل ہے۔

(3)
نماز باجماعت میں امام کےلئے سترہ کافی ہے۔
مقتدیوں کے آگے سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1304 سے ماخوذ ہے۔