سنن نسائي
كتاب المساجد— کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ بِغَيْرِ صَلاَةٍ باب: بغیر نماز پڑھے مسجد میں بیٹھنے اور اس سے نکلنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، قال ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ ، قال : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ ، حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، قَالَ : وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا ، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعًا وَثَمَانِينَ رَجُلًا ، فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ، ثُمَّ قَالَ : تَعَالَ ، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ لِي : مَا خَلَّفَكَ ؟ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ ؟ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ لِتَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشَكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ " ، فَقُمْتُ فَمَضَيْتُ . مُخْتَصَرٌ .
´عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ` میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے ، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے ، آپ سے معذرت کرنے لگے ، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے ، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا ، اور ان سے بیعت کر لی ، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی ، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا ، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے ، پھر فرمایا : ” آ جاؤ ! “ چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎ ، تو آپ نے مجھ سے پوچھا : ” تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے ؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا ، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم ، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے ، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا ، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا ، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے “ ، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا ، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: ” آ جاؤ! “ چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: ” تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ “ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے “، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 732]
➋ حدیث میں صراحت نہیں کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے تحیۃ المسجد پڑھی ہے۔ امام صاحب رحمہ اللہ کی تبویب سے یہی غرض ہے۔ واللہ أعلم۔
جس کی تفصیل کے لیے اہل علم فتح الباری کا مطالعہ فرمائیں۔
اس واقعہ کے ذیل علامہ حسن بصری ؒ کا یہ ارشاد گرامی یاد رکھنے کے قابل ہے۔
یا سبحان اللہ ما أکل ھٰؤلاءالثلاثة مالاحراما ولاسفکوا دما حراماولا أفسدوا في الأرض أصابهم ماسمعتم وضاقت علیهم الأرض بمارحبت فکیف بمن یواقعا لفواحش و الکبائر (فتح الباری)
یعنی سبحان اللہ ان تینوں بزرگوں نے نہ کوئی حرام مال کھایا تھا نہ کوئی خون بہایا تھا اور نہ زمین میں فساد برپا کیا تھا، پھر بھی ان کو یہ سزا دی گئی جس کا ذکر تم نے سنا ہے۔
ان کے لیے زمین اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی پس ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو بے حیائی اور ہر بڑے گناہوں میں ملوث ہوتے رہتے ہیں۔
ان پر خدا اور رسول اکا کس قدر عتاب ہونا چاہیے۔
اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ گناہوں کا ارتکاب کس قدر خطرناک ہے۔
حضرت کعب بن مالک انصاری خزرجی ہیں۔
بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے۔
50ھ میں 77سال کی عمر طویل پاکر انتقال فرمایا۔
(رضي اللہ عنه وأرضاہ)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ادائے فرض میں سستی اور غفلت کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ بسااوقات انسان سستی اور غفلت کے وقت کسی ایسے قصور کا مرتکب ہوجاتا ہے جس کا شمار بڑے گناہوں میں ہوتا ہے، نیز اس سے پتہ چلتا ہے کہ کفرواسلام کی کشمکش کا معاملہ کس قدر نزاکت کاحامل ہے، اس میں کفر کا ساتھ دینا تو درکنار جو شخص اسلام کا ساتھ دینے میں کسی ایک موقع پر بھی کوتاہی برت جاتا ہے اس کی بھی زندگی بھر کی عبادت گزاریاں خطرے میں پڑجاتی ہیں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے حسن بصری ؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! ان تین آدمیوں نے نہ تو مالِ حرام کھایا اور نہ ناحق خون ریزی کی، نہ زمین پر فساد کیا، اس کے باوجود جو مصیبت انھیں پہنچی وہ سب جانتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی وسیع اور کشادہ زمین ان پر تنگ ہوگئی جو شخص فواحش ومنکرات اور بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا اس کا کیا حال ہوگا، اس لیے ہمیں اپنے طرز ِعمل کے متعلق غوروخوض کرنا ہوگا۔
(فتح الباري: 155/8)
حضرت کعب بن مالک ؓ اس طرز عمل پر بہت فکر مند تھےجیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
فرماتے ہیں کہ مجھے زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ اگر اسی حالت میں میری وفات ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ میری نماز جنازہ نہیں پڑھیں گے یا میری اس حالت کے دوران میں رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا اور لوگوں میں میرا یہی حال رہا تووہ مجھ سے گفتگو نہیں کریں گے اور نہ کوئی اور میرا جنازہ ہی پڑھے گا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4677)
حافظ ابن حجر ؒ حضرت کعب بن مالک ؓ کی قوتِ ایمانی کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں، جب کعب بن مالک ؓ نے غسانی کا خط تنور میں پھینک دیا تو ان کا یہ عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت پر دلالت کرتا ہے بصورت دیگر ایسے موقع پر جب سوشل بائیکاٹ کا یہ عالم ہو کہ سلام و کلام تک بند ہو، کوئی توجہ نہ کرے تو کمزور ایمان والا آدمی بیزار ہو جاتا ہے اورجاہ ومال کی طرف رغبت کرتا ہے۔
انسان ایسے حالات میں اپنے دل سے کہتا ہے کہ بائیکاٹ کرنے والوں کو چھوڑو اور کچھ دن آرام سے گزارو، خاص طور پر جب ایک بادشاہ کی طرف سے امن و خوشحالی کا پیغام پہنچ چکا ہو۔
اس کایہ بھی کہنا کہ تمھیں دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن اس سب کچھ کے باوجود انھوں نے اس پیشکش کو امتحان خیال کیا بلکہ انھوں نے اس خط ہی کو جلا دیا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔
اسے کہلا بھیجا: یہ ہے تمہارے اس خط کا جواب۔
اس طرف کسی قسم کے جھکاؤ کا اظہارنہ کیا۔
انھوں نے اس بات کو ثابت کر دکھایا کہ ان کے دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے سے قطعاً کوئی محبت نہیں۔
(فتح الباري: 152/8)
2۔
اس طویل حدیث میں اگرچہ تین حضرات کے غزوہ تبو ک سے پیچھے رہ جانے اور ان کی توبہ قبول ہونے کا تفصیلی ذکر ہے، مگر اس سے حافظ ابن حجر ؒ نے بہت سے مسائل کا استنباط فرمایا ہے جن میں سے کچھ حسب ذیل ہیں۔
*۔
اچھی چیز کے ضائع ہوجانے پر افسوس جائز ہے۔
*۔
اہل بدعت سے دور رہنا اور ان سے بچنا چاہیے۔
*۔
کسی سنگین معصیت کے ارتکاب پر بائیکاٹ کرنا جائز ہے حتی کہ بیوی کے قریب نہ جانے کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔
*۔
باہر سے آنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ گھر جانے سے پہلے مسجد میں آئے اور دورکعتیں پڑھے۔
*۔
نماز میں نظر پھیر کر دیکھنا نماز کو باطل نہیں کرتا، نیز سلام کرنا اور اس کا جواب دینا کلام ہے۔
*۔
جب کاغذ پر اللہ کا نام لکھا ہوتو کسی مصلحت کے پیش نظر اسے جلانا جائزہے۔
*۔
نعمت کے ملنے اور مصیبت کے ختم ہونے پر خوشخبری دینا پسندیدہ امر ہے۔
*۔
آنے والے سے مصافحہ کرنا اور اس کے استقبال کے لیے کھڑا ہونا جائز ہے۔
*۔
جس اچھی چیز سے نفع ہو، اس کا التزام ہمیشہ کرنا چاہیے۔
*۔
جو شخص دین میں قوی ہو، اس کا مواخذہ کمزور آدمی کی بانسبت زیادہ سخت ہوتا ہے۔
*۔
ضروری امور میں امام کے پاس اکھٹے ہونا چاہیے اور جس سے امام کے ساتھی خوش ہوں امام کو بھی خوش ہونا چاہیے۔
*۔
اشارے کنائے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، ہاں! اگرنیت طلاق دینے کی ہوتو واقع ہوجائے گی۔
*۔
قریبی لوگوں کی محبت پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کوترجیح دینا ایمان کاحصہ ہے۔
*۔
جس شخص سے شرعی بائیکاٹ ہو اس کے سلام وکلام کا جواب نہ دینا جائز ہے۔
آپ ایک مدت تک زیر عتاب رہے۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی۔
اس کا مفصل ذکر کتاب المغازی میں آئے گا۔
حدیث سے یہ بھی نکلا کہ سارا مال خیرات کردینا مکروہ ہے اور یہ بھی نکلا کہ مال منقولہ کا وقف کرنا بھی جائز ہے۔
(1)
اگر کسی نے اپنی جائیداد میں سے کچھ مال صدقہ یا وقف کیا تو بلا اختلاف جائز ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے اسی بات کی ترغیب دی ہے کہ کل مال صدقہ کرنے کے بجائے کچھ مال صدقہ کیا جائے تاکہ آئندہ دنیاوی آفات میں فقر و فاقہ سے محفوظ رہے۔
ممکن ہے کہ عمر طویل ہو یا بینائی جاتی رہے یا کمزور تر ہو جائے یا کوئی موذی مرض لاحق ہو جائے جس کے باعث کاروبار بدستور قائم نہ رہ سکے اور اپنے پاس کچھ نہ ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت کعب بن مالک ؓ کو فرمایا: ’’اپنا کچھ مال روک لو تاکہ آئندہ تمہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
‘‘ وقف کی ایک قسم وقف مشاع ہے، یعنی کسی مشترک غیر ممتاز چیز کو وقف کرنا یا وقف منقول جیسا کہ چوپایہ اور آلات زراعت وغیرہ۔
ان کو وقف کرنے کے متعلق آئندہ احادیث ذکر ہوں گی۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ امام بخاری ؒ نے یہ باب منقول کے لیے قائم کیا ہے جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ اس کے قائل نہیں ہیں۔
اس سے وقف مشاع کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے جبکہ امام محمد بن حسن اس کے مخالف ہیں۔
(فتح الباري: 473/5)
لیکن ہمارے نزدیک امام بخاری ؒ نے اپنے مال سے کچھ حصہ وقف یا صدقہ کرنے کے متعلق یہ عنوان قائم کیا ہے کیونکہ وقف مشاع اور منقول سے متعلق احادیث آگے بیان ہوں گی۔
واللہ أعلم۔
واضح رہے کہ حضرت کعب بن مالک ؓ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ آئندہ بیان ہو گا۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4418)
اب ایسے معاملات خلیفہ اسلام کی صواب دید پر موقوف کئے جا سکتے ہیں۔
1۔
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کئی جنگوں میں شریک رہے ہیں لیکن غزوہ تبوک میں محض سستی کی وجہ سے حاضر نہ ہوسکے اور یہ بہت بڑا قومی جرم تھا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باز پرس کی تو انھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ میرے پاس پیچھے رہنے کے متعلق کوئی معقول عذر نہیں ہے۔
ان کےساتھ دو صحابی اور بھی تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں سے سوشل بائیکاٹ کیا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی ان کے ساتھ میل ملاپ اور بات چیت کرنے سے منع فرما دیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
2۔
اب بھی ایسے معاملات امامِ وقت کی صوابدید پر موقوف کیے جا سکتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت جہاد کی اہمیت کے پیش نظر کعب بن مالک جیسے نیک وصالح فدائی اسلام کے لئے یہ تساہل مناسب نہ تھا وہ جیسے عظیم المرتبت تھے ان کی کوتاہی کو بھی وہی درجہ دیا گیا اور انہوں نے جس صبر وشکر وپامردی کے ساتھ اس امتحان میں کامیابی حاصل کی وہ بھی لائق صد تبریک ہے اب یہ امر امام وخلیفہ کی دوراندیشی پر موقوف ہے کہ وہ کسی بھی ایسی لغزش کے مرتکب کو کس حد تک قابل سرزنش سمجھتا ہے۔
یہ ہرکس و ناکس کامقام نہیں ہے فافھم ولاتکن من القاصرین۔
(1)
ابتلاء وآزمائش کا یہ عظیم واقعہ تھا جس سے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ دوچار ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعوت جہاد کی اہمیت کے پیش نظر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جیسے جاں نثار اور اسلام کے فدائی کے لیے قطعاً یہ مناسب نہ تھا کہ وہ اس موقع پر سستی کا مظاہرہ کرتے، جیسے وہ خود عظیم المرتبت تھے، ان کی کوتاہی کو بھی وہی درجہ دیا گیا، ان سے سلام وکلام ختم کر دیا گیا حتی کہ ان کے جگری دوست حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بھی ان کے سلام کا جواب نہ دیا اور ان سے بات کرنا بھی گوارانہ کی۔
(2)
اگرچہ اسلام میں سلام عام کرنے کا حکم ہے لیکن جمہور اہل علم نے سلام کے اس عام حکم سے فاسق و فاجر کے ساتھ سلام وکلام ختم کرنے کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر فاسق وفاجر سے کسی فتنہ وفساد کا اندیشہ ہو تو سلام کہنے یا سلام کا جواب دینے میں کوئی حرج نہیں اور سلام کرتے وقت یہ نیت کرے کہ سلام اللہ تعالیٰ کا نام ہے گویا وہ سلام کے وقت یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر نگران ہے۔
(فتح الباري: 49/11)
واللہ أعلم
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی اس قدر روشن اورتابندہ تھی گویا اس سے سورج کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔
(صحیح ابن حبان: 74/9)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حدروشن جبین تھے۔
جب رات کی تاریکی میں تشریف لاتے تو سیاہ بالوں کے درمیان آپ کی تابناک اور کشادہ پیشانی روشن چراغ کی طرح جگمگا اٹھتی تھی۔
(دلائل النبوة: 317/1)
حافظ ابن حجر ؒ نے طبرانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ہماری طرف التفات فرمایا،گویا آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا تھا۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 136/2 طبع مکتبة العلوم والحکم و فتح الباري: 701/6)
1۔
حضرت کعب بن مالک ؓ اور ان کے دونوں ساتھیوں کو سچائی کی وجہ سے یہ صلا ملا کہ ان کی توبہ کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے سچائی کے متعلق فرمایا ہے: ’’تم سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی نیکی طرف رہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
آدمی سچ بولتارہتا ہے اور سچائی کا متلاشی رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیاجاتا ہے۔
اورتم جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف رہنمائی کرتاہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔
آدمی جھوٹ بولتارہتا ہے اور جھوٹ کا طلب گاررہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6094)
2۔
ایک روایت میں ہے: ’’بے شک سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بے شک جھوٹ گناہ ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، البر والصلة والأدب، حدیث: 6638(2607)
ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچائی کے متلاشی رہیں۔
واللہ المستعان۔
لیکن اللہ نے ان کو بچالیا۔
انہوں نے سچ سچ اپنے قصور کا اقرار کر لیا اور یہی اللہ کا فضل تھا جس کا وہ مدۃ العمر شاندار لفظوں میں ذکر فرماتے رہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو سچ ہی بولنے کی سعادت بخشے۔
(آمین)
1۔
رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہونے سے پہلے حضر ت کعب بن مالکؓ کے دل میں شیطان نے طرح طرح کے خیالات ڈالے تھے کہ کوئی جھوٹا بہانہ کرکے دنیا کی ذلت سے نجات حاسل کرلی جائے جیسا کہ درج ذیل روایت میں اس کی تفصیل ہے، حضرت کعب بن مالک ؒ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر میں آج آپ کے علاوہ کسی دنیا دار کے سامنے بیٹھا ہوتا تو کوئی نہ کوئی عذرگھڑ کر اس کی ناراضی سے بچ سکتاتھا۔
مجھے خوبصورتی کے ساتھ بات بنانے کا سلیقہ بھی خوب آتا ہے لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اگرآج میں آپ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بیان کرکے آپ کو راضی کرلوں توبہت جلد اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کردے گا۔
اس کی بجائے اگر میں آپ سے سی بات بیان کردوں تو یقیناً آپ مجھ سے ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے معافی کی پوری اُمیدہے۔
اللہ کی قسم! مجھے کوئی معذوری نہیں تھی۔
اللہ کی قسم! اس وقت سے پہلے میں کبھی اتنا فارغ البال اور خوش حال نہیں تھا، لیکن پھر بھی آپ کے ساتھ شریک سفر نہ ہوسکا۔
(فتح الباري: 427/8)
2۔
الغرض امام بخاری ؒ نے یہ حدیث اس لیے بیان کی ہے کہ اس میں فضول عذر کرنے والوں کا واضح تذکرہ ہے بلکہ اس آیت کابھی حوالہ ہے جو بطور عنوان پیش کی گئی ہے۔
واللہ اعلم۔
اگر کوئی محض خیرات کے نتیجہ میں خود بھوکا ننگا رہ جائے تو وہ خیرات عند اللہ بہتر نہیں ہے۔
1۔
عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں کعب ؓ کی توبہ،اللہ کی طرف سے شرف قبولیت اور پھر اس کی خوشی میں حضرت کعب ؓ کے صدقہ کرنے کا ذکر ہے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خیرات بھی وہی بہتر ہے جو طاقت کے مطابق کی جائے۔
اگر کوئی خیرات کرکے خود بھوکا ننگا ہوجاتا ہے تو وہ خیرات اللہ کے ہاں بہترنہیں ہے۔
3۔
امام بخاری ؒ نے بقدر ضرورت حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ہے، مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے۔
دیکھئے: (حدیث: 4418)
اس کے فوائد وہاں ملاحظہ فرمائیں۔
میں ان تینوں صحابیوں کا ذکر ہے جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور رسول کریم ﷺ نے ان سے سخت باز پرس کی تھی وہ تین حضرت کعب بن مالک اور ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیعہ ہیں۔
پچھلے دو نےتو معذرت وغیرہ کر کے چھٹکارا حاصل کر لیا تھا مگر حضرت کعب بن مالک نے اپنے قصور کا اعتراف کیا اور کوئی معذرت کرنا مناسب نہ جانا۔
آخر رسول کریم ﷺ نے وحی الہی کےانتظار میں ان سے بولنا وغیرہ بند کر دیا آخر بہت کافی دنوں بعد ان کی توبہ کی قبولیت کی بشارت ملی اور ان کو مبارک باد دی گئی۔
انصاری خزرجی ہیں دوسری بیعت عقبہ میں یہ شریک تھے۔
77سال کی عمر پا کر 50ھ میں جب کہ بصارت چلی گئی تھی ان کا انتقال ہوا۔
رضي اللہ عنه أرضاہ (آمین)
(1)
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے توبہ قبول ہونے کی خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں۔
آپ نے فرمایا: ’’نہیں۔
‘‘ پھر انہوں نے نصف مال دینے کی اجازت مانگی تو بھی آپ نے انکار کر دیا۔
آخر میں ایک تہائی مال دینے کے متعلق کہا تو آپ نے فرمایا: ’’ہاں۔
‘‘ اس کے بعد حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میں اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ روک لیتا ہوں، چنانچہ انہوں نے خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ کر باقی تمام مال صدقہ کر دیا۔
(سنن أبي داود، الأیمان والنذور، حدیث: 3321)
اس تفصیل کی بنا پر ہمارا موقف ہے کہ اگر کسی نے نذر مانی کہ میرے مریض کو شفا ملنے پر میرا تمام مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ ہے تو اسے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مال دینے کی اجازت ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک دوسرا موقف بیان کیا ہے کہ تمام مال صدقہ کرنا انسان کے اپنے حالات پر موقوف ہے، اگر مال دار صابر و شاکر ہے تو اسے تمام مال صدقہ کرنے سے منع نہیں کیا جائے گا جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے اور جیسا کہ انصار کے ایثار کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے۔
اگر وہ غریب ہے تو سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت نہیں جیسا کہ حدیث میں بہترین صدقہ اسے قرار دیا گیا ہے کہ اس کے بعد انسان کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو جائے۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 699/11)
(1)
علي غير ميعاد: بغیر کسی پیشگی پروگرام یا معاہدہ کے۔
(2)
ليلة العقبة: اس سے مراد تیسری ليلة العقبة جس میں مدینہ کے قبائل اوس اور خزرج نے اپنے ستر یا پچھتر سرکردہ نمائندے انتخاب کرکے باقاعدہ معاہدہ کرنے کے لیے بھیجے تھے، چنانچہ یہ لوگ اس گھاٹی میں آپ کو ملے، جس کے قریب جمرہ عقبہ یعنی بڑا شیطان ہے اور انہوں نے اپنے قبائل کی طرف سے آپ سے عہدوپیمان کیے اور حلف اٹھائے، اس میں حضرت کعب بن مالک نے اپنے قبیلہ کی طرف سے عہدوپیمان کیاتھا اور اس معاہدہ کی تکمیل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا تھااور اس کے لیے سرتوڑ کوشش کی تھی، اس لیے وہ اس کو اپنے مفاخر میں شمار کرتے ہیں۔
(3)
وان كانت بدراذكرفي الناس: اگرچہ بدر، سب سے پہلا غزوہ ہونے اور یوم فرقان ہونے کی بنا پر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے، لیکن وہ بغیر کسی اہتمام وتیاری کے اتفاقی طور پر پیش آگیا تھا، اس لیے میرے نزدیک ليلة العقبة کی اہمیت زیادہ ہے، کیونکہ وہ آپ کی اور مسلمانوں کی ہجرت کاپیش خیمہ بنی اور مدینہ داراالہجرہ ٹھہرا اور اس کے نتیجہ میں غزوہ بدر پیش آیا۔
(4)
جلا للمسلمين امرهم: جنگی سفروں میں آپ کی عادت مبارکہ، توریہ کرنے کی تھی، جدھر جانا ہوتا، اس کا کھلم کھلا اظہار نہ فرماتے، لیکن جنگ تبوک کے موقعہ پر، سفر کی درازی اور راستہ کی مشکلات اور دشمن کی مہارت وکثرت کے پیش نظر، صاف صاف اور واضح طور پر منزل مقصود کا تعین فرمادیا، تاکہ لوگ اس کے مطابق پوری طرح تیار ہوکر نکلیں، اس لیے اس جنگ کے لیے آپ کے ساتھ تیس ہزار مجاہد نکلے، جن میں دس ہزارسوار تھے، ان کے علاوہ کچھ اور نوکر چاکر وغیرہ بھی تھے، لیکن ان کا ریکارڈ رکھنے کے لیے کسی رجسٹر میں ان کے ناموں کا اندراج نہیں کیا تھا، اس لیے منافق اور کمزور ایمان والے لوگ یہی سمجھتے تھے، وحی کی آمد کے بغیر کسی کی غیر حاضری کا پتہ نہیں چل سکے گا۔
(5)
حين طابت الثمار والظلال: جب کہ پھل پک چکے تھے اور سائے گھنے ہوچکے تھے اور لوگ ان دنوں اپنے گھروں میں رہنے کے بہت محتاج اور شائق تھے، کیونکہ یہی پھل ہی ان کی گزران اور معیشت کی بنیاد تھے اور گرمی کی شدت کی وجہ سے گھنے سایوں میں بیٹھنا مرغوب تھا، اس لیے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، (6)
وانا اليها اصعر: میں ان کی طرف بہت مائل تھا، (7)
لم يزل يتمادي بي، میں تیاری کے سلسلہ میں آج کل کے درمیان مترددرہا، (8)
حتي استمرباالناس الجد، حتی کہ لوگوں نےبڑے زورشوراور اہتمام وکوشش سے نکلنے کی تیاری کرلی، (9)
ولم اقض من جهازي صلي الله عليه وسلم شئيا: اور میں اپنی تیاری کے سلسلہ میں کچھ نہ کرسکا۔
(10)
وتفارط الغرو اور مجاہد بہت آگے نکل گئے۔
(11)
مغموصا عليه في النفاق: جن پر نفاق کا الزام اور تہمت تھی اور اس کی بنا پر حقیروذلیل تصور ہوتے تھے، (12)
حسه براده والنظرني عطفيه: اپنی چادروں کی خوبصورتی اور اپنے تنومند اور صحت مند جسم کے گھمنڈنے اسے روک لیا ہے، رجلا مبيضا: سفید پوش آدمی، يزول به السراب: اس سے ریگستان میں تموج وضطراب پیدا ہورہا تھا، یعنی وہ دور سے سراب میں آتا نظر آرہا تھا، (13)
كن ابا خيثمه: اے اللہ!یہ ابو خیثمہ ہو، جو اپنا واقعہ یوں کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تبوک روانہ ہوئے چند دن ہی گذرے تھے کہ ایک دن شدید گرمی پڑرہی تھی، میں دوپہر کو اپنے باغ میں گیا تو دیکھا، میری دونوں بیویوں نے کھجور کے درختوں اور انگورکی بیلوں کے سائبانوں کے نیچے اپنی اپنی جگہ کو پانی چھڑک کر خوب ٹھنڈا کر رکھا ہے اور ٹھنڈے میٹھے پانی کی صراحیاں تیار پڑی ہیں، کھانا تیارہے، جونہی انہوں نےعریش (چھپر خسخانہ)
میں قدم رکھا، اپنی بیویوں اور کھانے پینے کے سامان عیش وعشرت کو دیکھا تو بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا، سبحان اللہ، اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جس کی تمام اگلی پچھلی کوتاہیوں کی مغفرت کی بشارت انہیں دنیاہی میں مل چکی ہے، وہ شدید گرمی میں ریت کے ریگستانوں میں سفر کی مشقت برداشت کرے اور ابوخیثمہ سرسبز درختوں کے خنک سایہ میں حسین وجمیل بیویوں کے ساتھ بیٹھ کر لذیز کھائے، ٹھنڈا پانی پیے اور دادعیش وعشرت دے، واللہ!یہ ہرگز انصاف نہیں ہے، اس لیے انہوں نے اپنی بیویوں سے کہا، تم اسی وقت میری سواری اور سامان سفر تیرکردو، تاکہ میں جلد ہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوجاؤں، چنانچہ دونوں فرمانبردار بیویوں نے اسی وقت آب کشی کے اونٹ پر ان کا سامان سفر باندھا اور انہوں نے اسی وقت تن تنہا تبوک کی راہ لی، یہاں تک جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور سے، ایک سفید پوش، تن تنہا سوار کو سراب کے تھپیڑوں میں دیکھا تو فوراًزبان سے نکلا، (14)
كن ابا خيثمه، ابو خیثمہ ہوتو وہ وہی تھے، (15)
لمزه المنافقون: منافقوں نے اسے اپنی طنزوطعن اور تحقیر کا نشانہ بنایا۔
(16)
توجه قافلا: واپسی کا رخ کرلیا، حضرني صدقه: آپ سے سچی بات کہنے کا پختہ عہد کرلیا۔
(17)
لقداعطيت جدلا: مجھے فصاحت وبلاغت اور زور بیان اور لطافت لسانی سے نوازا گیا ہے اور میں بہترین عذر وبہانہ کرکے اپنی صفائی پیش کرسکتا ہوں۔
(18)
تجد علي، آپ مجھ پر ناراض ہوجائیں گے، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع عامری کو شرکاء بدر سے قرار دیا گیا ہے، حافظ ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعادج 3ص 505 مطبوعۃ دارحیاء التراث اسلامی، میں لکھا ہے کہ اہل مغازی اور مؤرخین میں سے کسی نے بھی ان دونوں بزرگوں کا نام اصحاب بدر میں ذکر نہیں کیا اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ بدری کا مقاطعہ نہیں فرمایا اور نہ ہی انہیں کوئی دوسری سزا دی، حالانکہ انہوں نے راز افشاء کرنے کا جرم کیا تھا، کہاں جنگ سے پیچھے رہ جانا اور کہاں راز افشاء کرنے کا جرم، اس طرح ابن قیم رحمہ اللہ نے علامہ ابن جوزی سے ابوبکر اثرم کا قول نقل کیا ہے کہ زہری کے فضل، حفظ اور اتقان میں کوئی شبہ نہیں ہے اوران کی اس غلطی کے سوا میرے سامنے کوئی غلطی نہیں ہے لیکن مرارہ بن ربیععمری ہیں ان کو مرارہ بن ربیعہ عامری کہنا درست نہیں اور ہلال بن امیہ کا شرکائے بدر میں، اس کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا، یہ ان کی غلطی ہے اور غلطی سے کوئی انسان محفوظ نہیں رہ سکتا۔
(19)
مازالوايو نبو نني، وہ مجھے مسلسل سرزنش وتوبیخ اور ملامت کرتے رہے۔
(20)
استكانا: وہ دونوں جھک گئے، جھینپ گئے، كنت اشب القوم واجلدهم: میں تینوں میں سےجوان اورطاقتورتھا، حتي تسورت: حتی کے میں دیوار پر چڑھ گیا۔
(21)
نبطي: کسان، کاشتکار، بدار هوان ولا مضيعة: ذلت ورسوائی کا گھر اور جہاں حقوق کا تحفظ نہ ہو، بلکہ ضائع ہوں، تياممت: حضرت کعب نے اپنی قوت ایمانی اور اللہ اور اس کے رسول کی حقیقی وسچی محبت کی بنا پر، دشمن کے اس حملہ کو بھی سہ لیا، حالانکہ شعراء مال ودولت اور شاہی درباروں کے بڑے رسیا ہوتے ہیں، اس لیے انہوں نے اس شاہی نامہ کو تنور کی نظر کردیا، (22)
تياممت، میں نے رخ کیا، (23)
استلبث الوحي: وحی کے نزول میں تاخیر ہوگئی۔
(24)
اوفي علي سلع: وہ سلع پہاڑ پر چڑھ گیا، جہاں حضرت کعب خیمہ بناچکے تھے۔
فاذن رسول الله صلي الله عليه وسلم: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر میں تھے، تورات کے آخری تہائی میں، قبولیت توبہ کی آیات اتریں، چونکہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما، حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے معاملہ سے دلچسپی لیتی تھیں اور ان پر کرم فرما تھیں، اس لیے آپ نے انہیں اسی وقت حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت سے آگاہ فرمادیا اور انہوں نے اسی وقت حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا اور فرمایا، لوگ تمہارے گھر اژدھام کریں گے اور تمہیں سونے نہیں دیں گے، اس لیے آپ نے صبح کی نماز پڑھنے کے بعد، ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمایا تو حضرت حمزہ بن عمرواسلمی پیدل، حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو بشارت دینے کے لیے دوڑے اور حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ نےاپناگھوڑادوڑایا۔
(25)
ان انخلع من مالي: میں اپنے سارے مال سے الگ ہو جاتاہوں، سارا مال اللہ کی رہا میں صدقہ کرتا ہوں۔
(26)
امسك بعض مالك: اپنا کچھ مال روک لو، بعض روایتوں میں تہائی مال کا صدقہ تیرے لیے کافی ہے، جس سے ثواب ہوتا، اہل وعیال اور گھریلو ضروریات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، ان کو نظر انداز کرکے سارا مال صدقہ کردینا درست نہیں ہے۔
(27)
ابلاه الله، اس پر اللہ نے انعام واحسان فرمایا۔
(28)
ان لااكون كذبته: میں نے آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔
فوائد ومسائل: یہ حدیث فصاحت و بلاغت کا ایک انتہائی اعلیٰ نمونہ ہے، جس میں حضرت کعب نے اپنے جذبات واحساسات اور دلی کیفیات کی بہترین انداز سے ترجمانی کی ہے، صحابہ کرام کا جذبہ اطاعت و فرمانبرداری نمایاں کیا ہے اور آپ کاصحابہ کرام کے ساتھ طرز عمل اور پیار، عمدہ پیرائے میں بیان کیا ہے مسرت کے وقت آپ کے رخ انور کی عکاسی کی ہے، صدق و سچائی کا حسن انجام بتایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام سے استحقاق پیدا کرنے کے لیے جس ایثارو قربانی کی ضرورت ہے، اس کا نقشہ حسین انداز سے کھینچا ہے اور اس حدیث سے علماء نے جو اہم فوائد و نتائج اخذ کیے ہیں، ہم آخر میں ان کا خلاصہ بیان کریں گے۔
کعب بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی غزوے کیے ان میں سے غزوہ تبوک کو چھوڑ کر کوئی بھی غزوہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں آپ کے ساتھ میں نہ رہا ہوں۔ رہا بدر کا معاملہ سو بدر میں جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے کسی کی بھی آپ نے سرزنش نہیں کی تھی۔ کیونکہ آپ کا ارادہ (شام سے آ رہے) قافلے کو گھیرنے کا تھا، اور قریش اپنے قافلے کو بچانے کے لیے نکلے تھے، پھر دونوں قافلے بغیر پہلے سے طے کئے ہوئے جگہ میں جا ٹکرائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آیت: «إذ أنتم بالعدوة الدنيا وهم بالعدوة القصوى والركب أسفل منكم ولو تواعدتم لاختلفتم في الميعا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3102]
وضاحت:
1؎:
اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اپنے نبی پر اور ان مہاجرین وانصار کی طرف جنہوں نے اس کی مدد کی کٹھن گھڑی میں جب کہ ان میں سے ایک فریق کے دلوں کے پلٹ جانے اور کج روی اختیار کرلینے کا ڈر موجود تھا، پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔
بے شک وہ ان پر نرمی والا اور مہر بان ہے (التوبة: 117)
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سارے مال سے دستبردار ہو کر اسے اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے “ تو میں نے عرض کیا: میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3317]
کسی گناہ اور تقصیر کی توبہ میں صدقہ کرنا بہت افضل عمل ہے۔
لیکن انسان خالی ہاتھ ہوکر رہ جائے یہ کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
البتہ صدیقین کے لئے جائز ہے۔
جو اس کے نتائج کو بخیر وخوبی برداشت کرسکتے ہیں۔
جس کی مثال ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی قصہ میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں یہ شامل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں “ میں نے کہا: نصف صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں “ میں نے کہا: ثلث صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں “ میں نے کہا: تو میں اپنا خیبر کا حصہ روک لیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3321]
جس شخص نے اپنا کل مال صدقہ کرنے کی نذر مانی ہو تو ا س کی نذر اس طرح پوری کی جائے۔
کہ اس کا تہائی (3/1) مال صدقہ کردیا جائے۔
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے (جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے) وہ کہتے ہیں: میں نے کعب بن مالک سے سنا (ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4600]
1۔
شخصی احوال میں اپنے کسی مسلمان بھائی سے ناراض ہوجائے تو تین دن سے زیادہ بات چیت چھوڑ دینا جائز نہیں۔
لیکن اگر دینی اور شرعی سبب ہو تو یہ مقاطعہ طویل کیا جا سکتا ہے۔
بالخصوص اہل بدعت سے دینی حق کی بناء پر دائمی مقاطعہ (قطع تعلقی) مطلوب ہے۔
2۔
حضرت کعب بن مالک مرارہ بن ربیع اور ہلالبن امیہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ معروف ہے۔
تفسیروسیرت اور احادیث کی کتب میں تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔
ان حضرات کی توبہ پچاس دن کے بعد قبول ہوئی تھی۔
اس دوران میں تادیب وتنبیہ کے لیے مسلمانوں کو ان سے بعد چیت سے منع کردیا گیا تھا۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے۔
دیکھیے: (صحیح البخاري، المغازي، حدیث:4418، صحیح مسلم، التوبة، حدیث: 2769)
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎۔“ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3854]
(2) یہ حدیث مذکورہ باب سے نہیں بلکہ آئندہ باب سے متعلق ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے بہت سے مقامات پر ایسے کیا ہے۔ جب ایک باب کے تحت بہت سی احادیث ہوں تو آخر میں ایک حدیث ایسی لاتے ہیں جو آئندہ باب سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید یہ اشارہ کرنا مقصود ہو کہ آگے نیا باب آرہا ہے۔ یہ اسلوب صرف امام نسائی رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: ” اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا “، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3857]
(2) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دی گئی رخصت کو قبول کرنا چاہیے‘ خواہ وہ رخصت سفری نمازوں میں ہو یا دیگر معاملات میں‘ اسی میں سعادت ہے۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا “، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3855]
(2) ”میری توبہ میں سے ہے“ گویا انہوں نے جب توبہ کی تھی تو ساتھ نذر بھی مانی تھی کہ اگر میری توبہ قبول ہوگئی تو میں اپنا سارا مال صدقہ کردوں گا۔ اب آپ کے سامنے ذکر کیا تو آپ نے اصلاح فرما دی کہ سارا مال صدقہ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ کچھ مال اپنے پاس بھی رکھنا چاہیے تاکہ نذر ماننے والا محتاج ہی نہ ہوجائے۔ اس طرح یہ آئندہ کے لیے بھی دستور بن گیا کہ اگر کوئی شخص اپنا سارا مال صدقہ کرنے کی نذر مان لے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق مال رکھ سکتا ہے بلکہ اسے رکھنا چاہیے۔ اور اس حدیث کو مذکورہ باب کے تحت ذکر کرنے کی یہی وجہ ہے۔ واللہ أعلم۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا “، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3856]
(2) ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ﴾ صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ دینے والے کی طاقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے‘ اس پر اتنا بوجھ ڈالا جائے جتنا وہ اٹھا سکے۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1393]
فائده:
حضرت کعب بن مالک، حضرت مرارہ بن ربیع اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم غزوہ تبوک سے محض سستی کی بنا پر کسی معقول عذر کے بغیر پیچھے رہ گئے تھے۔
جس پر اللہ کے حکم سے تمام مسلمانوں نے ان تینوں حضرات سے پچاس دن تک بائیکاٹ کردیا۔
اتنی طویل مدت تک یہ حضرات پریشان رہے اور توبہ کرتے رہے۔
آخر پچاس دن بعد توبہ قبول ہوئی۔
تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کو ان کی زندگی کا افضل ترین دن قراردیا۔ (صحیح البخاري، المغازي، باب حدیث کعب بن مالك، حدیث: 4418)
قرآن مجید میں سورہ توبہ آیت 118 میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔