سنن نسائي
كتاب المساجد— کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
بَابُ : الْقَوْلِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَعِنْدَ الْخُرُوجِ مِنْهُ باب: مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 730
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْغَيْلَانِيُّ بَصْرِيٌّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ ، وَأَبَا أُسَيْدٍ ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ ، وَإِذَا خَرَجَ ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحمید اور ابواسید ( مالک بن ربیعہ ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ : «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» ” اے اللہ ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے “ پڑھے ، اور جب نکلے تو : «اللہم إني أسألك من فضلك» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں “ پڑھے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت پڑھی جانے والی دعا کا بیان۔`
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» " اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے " پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» " اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں " پڑھے۔" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 730]
ابوحمید اور ابواسید (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو وہ: «اللہم افتح لي أبواب رحمتك» " اے اللہ! تو میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے " پڑھے، اور جب نکلے تو: «اللہم إني أسألك من فضلك» " اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں " پڑھے۔" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 730]
730۔ اردو حاشیہ: داخل ہوتے وقت رحمت الٰہی کا حصول مقصود ہوتا ہے اور باہر آکر طلب رزق کا کام ہوتا ہے، اس لیے دونوں دعائیں موقع محل کے مطابق ہیں۔ رحمت سے اخروی نعمتیں اور مغفرت مراد ہے۔ فضل، دنیوی نعمت اور رزق دونوں پر بولا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 730 سے ماخوذ ہے۔