حدیث نمبر: 721
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے علقمہ اور اسود نے` عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المساجد / حدیث: 721
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المساجد 5 (534) ، سنن ابی داود/الصلاة 150 (868) ، (تحفة الأشراف: 9164، 9165) ، ویأتي عند المؤلف برقم: (1031) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مسجد میں انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کرنے کا بیان۔`
اس سند سے علقمہ اور اسود نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 721]
721۔ اردو حاشیہ: یہ دونوں سندیں ایک ہی حدیث کی ہیں، دونوں میں حضرت اعمش ہیں۔ اتفاق یہ ہے کہ امام نسائی رحمہ اللہ کو دونوں سندیں بیان کرنے والے استاد اسحاق بن ابراہیم ہی ہیں۔ سندوں کا اختلاف اسحاق اور اعمش کے بین بین ہے۔ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ لیکن پہلی سند عالی ہے کہ اس میں مصنف اور اعمش کے درمیان دو واسطے ہیں جبکہ دوسری سند نازل کہ مصنف اور اعمش کے مابین تین واسطے ہیں۔ «فَذَكَرَ نَحْوَهُ» احتمال ہے کہ اس سے مراد امام نسائی رحمہ اللہ کے شیخ اسحاق ہوں، انہوں نے یہ حدیث اپنی دوسری سند (نضر عن شعبة) کے ساتھ پہلی حدیث کے مفہوم کے قریب قریب بیان کی ہے اور ممکن ہے کہ اس سے مراد امام شعبہ ہوں کہ انہوں نے یہ حدیث عیسیٰ بن یونس کی حدیث کے ہم معنی ذکر کی ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 721 سے ماخوذ ہے۔