حدیث نمبر: 700
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قال : قال أَبِي : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ مَسْجِدَ قُبَاءَ فَصَلَّى فِيهِ كَانَ لَهُ عَدْلَ عُمْرَةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( اپنے گھر سے ) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب المساجد / حدیث: 700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/إقامة 197 (1412) ، (تحفة الأشراف: 4657) ، مسند احمد 3/487 (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1412

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت کا بیان۔`
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص (اپنے گھر سے) نکلے یہاں تک کہ وہ اس مسجد یعنی مسجد قباء میں آ کر اس میں نماز پڑھے تو اس کے لیے عمرہ کے برابر ثواب ہے۔‏‏‏‏" [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 700]
700۔ اردو حاشیہ: دور دراز سے تقرب اور تبرک کا قصد کر کے مسجد قباء میں جانا درست نہیں کیونکہ یہ خصوصیت مساجد ثلاثہ (بیت اللہ، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ) ہی کو حاصل ہے، البتہ قرب و جوار سے مسجد قباء میں آنا فضیلت کا باعث ہے، یعنی جو شخص مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی نیت سے حاضر ہوا ہو یا مدینہ منورہ کا باسی ہو، وہ مسجد قباء کو جائے تاکہ یہ فضیلت حاصل کر سکے۔ اس طرح سب احادیث پر عمل ہو جائے گا۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 700 سے ماخوذ ہے۔