سنن نسائي
كتاب المساجد— کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
بَابُ : الصَّلاَةِ فِي الْكَعْبَةِ باب: خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَبِلَالٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا فَتَحَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ ، فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ : هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ " .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں :` رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید ، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا ، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، اور ان لوگوں نے خانہ کعبہ کا دروازہ بند کر لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھولا تو سب سے پہلے اندر جانے والا میں تھا، پھر میں بلال رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے دونوں یمانی ستونوں یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 693]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کعبے کے چھ ستون تھے۔ تین اگلی صف میں، تین پچھلی صف میں۔ بائیں طرف کے ستونوں کو یمنی کہا جاتا تھا۔