سنن نسائي
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے احکام و مسائل
بَابُ : فَضْلِ التَّأْذِينِ باب: اذان دینے کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ : اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى " .
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے ، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے ، تو ( پھر ) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے ، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو ( پھر ) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے ، کہتا ہے ( کہ ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر ، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان (کی آواز) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو (پھر) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو (پھر) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے (کہ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 671]
➋ ”وسوسے ڈالتا ہے۔“ یعنی اس کی توجہ نماز کی بجائے ادھر ادھر مبذول کراتا ہے۔ لعنه اللہ۔
اذان سے نفرت کرکے وہ بھاگتا ہے اور اس زور سے بھاگتا ہے کہ اس کا گوز نکلنے لگتا ہے۔
آمنا و صدقنا ماقال النبي صلی اللہ علیه وسلم بہت سے انسان نما شیطان بھی ہیں جو اذان جیسی پیاری آواز سے نفرت کرتے ہیں، اس کے روکنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ بظاہر انسان در حقیقت ذریات شیطان ہیں۔
قاتلهم اللہ أنی یؤفکون
1۔
شیطان، اذان سے نفرت کرکے اتنی زورسے بھاگتا ہے کہ اس کی ہوا نکلنے لگ جاتی ہے۔
اس سے شیطان کے وجود اور اس کی گندی صفت اذان کی آواز سن کر پادنا ثابت ہوا۔
اس دور میں بہت سے شیطان نما انسان بھی ایسے ہیں جو اذان جیسی پیاری آواز سے نفرت کرتے ہیں اور اذان کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایسے لوگ بظاہر انسان لیکن درحقیقت شیطان کی اولاد ہیں۔
2۔
واضح رہے کہ جب نمازی کو تعداد رکعات کے متعلق شک پڑے تو یقینی تعداد پر بنیاد رکھ کر اپنی نماز پوری کرے اور بعد میں دوسجدہ سہو کرے تاکہ بھول کی تلافی ہوجائے۔
بعض نے کہا اس لیے کہ اذان کی گواہی آخرت میں نہ دینی پڑے۔
چونکہ جہاں اذان کی آواز جاتی ہے وہ سب گواہ بنتے ہیں۔
اس ڈر سے وہ بھاگ جاتاہے کہ جان بچی لاکھوں پائے۔
کتنے ہی انسان نماشیطان بھی ہیں جو اذان کی آواز سن کر سوجاتے ہیں یااپنے دنیاوی کاروبار سے مشغول ہوجاتے ہیں اور نماز کے لیے مسجد میں حاضر نہیں ہوتے۔
یہ لوگ بھی شیطان مردود سے کم نہیں ہیں۔
اللہ ان کو ہدایت سے نوازے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں اذان کے بجائے تاذین کے الفاظ استعمال کیے ہیں تاکہ الفاظ حدیث سے مطابقت ہو، کیونکہ حدیث میں تاذین کا لفظ آیا ہے۔
اگرچہ تاذین کا لفظ مؤذن کے قول وفعل اور اس کی ہیئت وغیرہ سب کو شامل ہے، لیکن اس مقام پر صرف اذان کے الفاظ مراد ہیں، چنانچہ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے: ’’ تاکہ وہ اس کی آواز نہ سن سکے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 856 (389) (2)
عنوان سے اس حدیث کے مطابقت بایں طور ہے کہ یہ صرف اذان کی فضیلت ہے جس کی آواز سن کر شیطان بھاگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
اگرچہ اذان کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں، لیکن امام بخاری ؒ نے صرف مذکورہ حدیث کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ اذان سے متعلق دیگر فضائل کو متعدد نیک اعمال سے حاصل کیا جاسکتا ہے جبکہ شیطان کے بھاگنے کی خصوصیت صرف اذان سے وابستہ ہے۔
والله أعلم. (3)
شیطان سے ہوا کا خارج ہونا بعید از امکان نہیں، کیونکہ اس کابھی ایک جسم ہے جسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے گوز مارنے کی کئی ایک وجوہات ہیں: ٭اذان کی وجہ سے اس پر بوجھ پڑتا ہے، وہ اس دباؤ کی وجہ سے ہوا خارج کرتا ہے۔
٭وہ اس نازیبا حرکت سے اذان کے ساتھ مذاق کرتا ہے، جیسا کہ غیر مذہب لوگوں کا شیوہ ہو۔
٭وہ دانستہ یہ کام کرتا ہے تاکہ اذان کی آواز اس کے کانوں میں نہ آسکے، کیونکہ جب قریب شور برپا ہوتو دور کی آواز سنائی نہیں دیتی۔
(فتح الباري: 113/2) (4)
اذان سنتے ہی شیطان اس قسم کے حالات سے دوچار ہوتا ہے جیسے کسی آدمی کو انتہائی پریشان کن اور دہشت ناک معاملہ پیش آگیا ہو۔
ایسے شدید حالات میں خوف کی وجہ سے انسان کے جوڑ ڈھیلے پڑجاتے ہیں اور اسے اپنے آپ پر کنٹرول نہیں رہتا۔
اس بے بسی کے عالم میں اس کا پیشاب اور ہوا از خود خارج ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
شیطان لعین بھی جب اذان سنتا ہے تو اس کی بھی یہی کیفیت ہوتی ہے، یعنی وہ سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ وہ مقام روحاء تک بھاگتا چلا جاتا ہے تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور مقام روحاء مدینہ طیبہ سے 36 میل کے فاصلے پر ہے۔
(فتح الباري: 113/2)
(5)
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ شیطان، انسان کو دوران نماز میں ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے بھول چکی ہوتی ہیں، کیونکہ بھولی بسری باتوں کی طرف انسان زیادہ متوجہ ہوتا ہے، اس لیے بھولی باتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے وگرنہ شیطان کا کام نمازی کے خشوع خضوع کو برباد کرنا ہے، اس کے لیے وہ ہر چارہ کرتا ہے۔
وہ نمازی کو مشغول کرنے کےلیے یاد باتوں کا وسوسہ بھی ڈالتا ہے اور اسے سوچ بچار میں مبتلا کرنے کےلیے بھولی ہوئی باتیں بھی یاد دلاتا ہے۔
ان باتوں کا تعلق دنیوی معاملات سے بھی ہوسکتا ہے اور دینی امور سے بھی حتی کہ قرآنی آیات کے معانی اور اس کے اسرارورموز کے ذریعے سے بھی غافل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
(6)
تثويب کے لغوی معنی لوٹنا ہیں۔
شریعت کی اصطلاح میں اس کے کئی ایک معانی ہیں، مثلا: اذان کے بعد مؤذن کا لوگوں کو نماز کے لیے بلانا بھی تثويب کہلاتا ہے۔
شریعت نے اس فعل کو ناپسند کیا ہے۔
اسی طرح صبح کی نماز میں ''الصلاة خير من النوم'' کہنے کو بھی تثويب کہا جاتا ہے، لیکن اس حدیث میں تثويب سے مراد نماز کی اقامت ہے۔
چونکہ امامت کہتے وقت مؤذن دوبارہ اذان کے الفاظ کی طرف لوٹتا ہے اور انھیں دہراتا ہے، اس لیے اقامت کو تثويب کہا گیا ہے۔
صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے کہ جب شیطان اقامت سنتا ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 856(389) (7)
اس حدیث سے بظاہر اذان کی فضیلت نماز سے زیادہ معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اذان سے شیطان بھاگ جاتا ہے، جبکہ دوران نماز میں وہ واپس آکر وسوسہ اندازی شروع کردیتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے نماز ہی کو فضیلت اور برتری حاصل ہے، کیونکہ ہر چیز کے خواص الگ الگ ہوتے ہیں۔
بسا اوقات ایک کم قیمت چیز کے وہ فوائد ہوتے ہیں جو اس سے بہتر چیز میں نہیں پائے جاتے، مثلا: سنامکی کی خاصیت ہے کہ وہ قبض کشا ہے، حالانکہ خمیرہ مروارید سے وہ بہت کم درجے کی ہے، علاوہ ازیں خمیرہ مروارید قبض کشا بھی نہیں ہوتا۔
اذان میں شہادتین کا اعلان ہوتا ہے اور احادیث کے مطابق مؤذن جب اذان دیتا ہے تو حد آواز تک ہر چیز اس کے ایمان وعمل کی گواہی دے گی جبکہ شیطان کو یہ بات گوارا نہیں کہ اس کے عمل و ایمان کی کوئی چیز گواہی دے، اس لیے وہ اذان سننے کی تاب نہیں لاسکتا۔
نماز میں یہ خاصہ نہیں ہے، اگرچہ وہ افضل عبادت ہے۔
نماز میں مناجات اور سرگوشی ہوتی ہے، اس لیے نماز شروع ہوتے ہی شیطان لوٹ آتا ہے اور طرح طرح کی وسوسہ اندازی شروع کردیتا ہے۔
والله أعلم.
➊ ”تثویب“ کا لفظی معنی لوٹانا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی کپڑا ہلا کر کسی کو مدد کے لیے بلانا ہے، پھر مطلق کسی کو اطلاع دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اس حدیث میں تثویب سے مراد اقامت کہنا ہے، تا کہ لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔ اس کے علاوہ اذان میں «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ» کہنے کو بھی تثویب کہتے ہیں۔ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ تثویب کی کچھ صورتیں بدعت ہیں، مثلاً اذان کے بعد اور اقامت سے پہلے لوگوں کو بلند آواز سے نماز کے لیے بلانا بھی تثویب ہے اور بدعت ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مسجد میں ظہر یا عصر کے وقت کسی شخص کو اس طرح کہتے سنا تو انھوں نے فرمایا: ”مجھے یہاں سے لے چلو، بے شک یہ بدعت ہے۔“ [ابو داؤد: 538] اسی طرح نماز سے پہلے «الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ» کہنا بھی تثویب ہے اور بدعت ہے۔ اذان کے دوران «حي على خَيْرِ الْعَمَلِ» کہنا بھی تثویب ہے اور بدعت ہے۔ اس کے علاوہ اذان میں «أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللَّهِ، وَصِي رَسُولِ اللهِ، خَلِيْفَةٌ بِلَا فَصْلِ» کے الفاظ بدعی اضافہ ہیں اور «وَصِيُّ رَسُولِ اللهِ، خَلِيفَةٌ بِلَا فَضل» کے الفاظ صاف جھوٹ ہیں۔
➋ اذان سن کر شیطان اس لیے بھاگتا اور اتنی دور چلا جاتا ہے کہ اذان نہ سن سکے۔ [صحيح مسلم 388] میں جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ”حتی کہ وہ روحاء مقام پر پہنچ جاتا ہے۔“ اور صحیح مسلم کی اس روایت میں یہ بھی ہے کہ مدینہ اور روحاء میں چھتیسں (36) میل کا فاصلہ ہے۔
➌ اذان سن کر شیطان کا گوز مارتے ہوئے بھاگنا خوف کی وجہ سے بے اختیار بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اذان کے کلمات کے بوجھ کو برداشت نہ کر سکتا ہو اور جان بوجھ کر بھی، تا کہ اذان کے کلمات نہ سنے۔ علامہ وحید الزمان لکھتے ہیں: شیطان اذان سے ایسا بھاگتا ہے جیسا چور کوتوال سے۔ بعضوں نے کہا: اذان میں چونکہ نماز کے لیے بلاوا ہوتا ہے اور نماز میں سجدہ ہے، اس کو اپنا قصہ یاد آتا ہے کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے سے وہ راندہ درگاہ ہوا، اس لیے اذان سننا نہیں چاہتا۔ بعض نے کہا: اس لیے کہ اذان کی گواہی آخرت میں نہ دینا پڑے، چونکہ جہاں تک اذان کی آواز جاتی ہے وہ سب گواہ بنتے ہیں، آخرت میں گواہی دیں گے، جیسے دوسری حدیث میں ہے۔ [تيسير الباري]
➍ بعض لوگ قبر پر اذان دیتے ہیں، یہ بدعت ہے۔
➎ اذان کی فضیلت میں اور بھی احادیث آئی ہیں جن میں سے بعض کو امام بخاری رحمہ اللہ نے دوسرے ابواب میں ذکر کیا ہے، مگر خاص اذان کی فضیلت کے باب میں صرف یہ ایک حدیث بیان کی ہے، کیونکہ دوسرے فضائل بعض دوسرے اعمال کے بھی ہو سکتے ہیں مگر اذان سن کر شیطان کا اس طرح بھاگنا صرف اذان ہی کی خصوصیت ہے۔ [والله اعلم] [فتح الباري]
➏ ابن بطال نے فرمایا: معلوم ہوتا ہے کہ اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کی ممانعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس میں اذان سن کر بھاگنے کی شیطان سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ [فتح الباري]
➐ شیطان نماز میں وہ چیزیں یاد کرواتا ہے جنھیں وہ اس وقت یاد نہیں کر رہا ہوتا، کیونکہ ایسی باتوں سے آدمی کو زیادہ دلچسپی ہوتی ہے، خواہ دینی باتیں ہوں یا دنیوی، ہو سکتا ہے کسی علمی نکتے کے ساتھ ہی اس کی نماز کا بیڑا غرق کر دے، اس لیے اس
کے فریب سے ہوشیار رہنا لازم ہے۔
حسن بصری اور سلف کا ایک گروہ اسی طرف گئے ہیں کہ اس حدیث سے کثیر الوساوس آدمی مراد ہے اورامام بخاری ؒ کے باب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔
(للعلامة الغزنوي)
اور امام مالک ؒ، شافعی ؒ اور امام احمد ؒ اس حدیث کو مسلم وغیرہ کی حدیث پر حمل کرتے ہیں جو ابو سعید ؓ سے مروی ہے کہ اگر شک دو یا تین میں ہے تو دو سمجھے اور اگر تین یاچار میں ہے تو تین سمجھے۔
بقیہ کو پڑھ کرسہو کے دو سجدے سلام سے پہلے دے دے۔
(نصر الباري، ج: 1ص: 447)
(1)
اس حدیث میں محل سجود کی تعیین نہیں کہ وہ سلام سے پہلے ہیں یا بعد میں، اس کی وضاحت ایک اور روایت میں ہے جسے امام دارقطنی ؒ نے بیان کیا ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو دوران نماز میں سہو ہو جائے اور اسے پتہ نہ چل سکے کہ زیادہ رکعات پڑھی ہیں یا کم تو اسے چاہیے کہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔
(فتح الباري: 135/3)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ شک کی صورت میں اسے سلام سے پہلے دو سجدے کرنے چاہئیں۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 401) (2)
دوران نماز شک گزرنے کی صورت میں کچھ تفصیل ہے، اگر نمازی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ درستی کی کوشش کرے اور اپنی مستحکم رائے پر نماز کی بنیاد رکھتے ہوئے اسے پورا کرے اور سلام پھیر دے۔
سلام کے بعد آخر میں سہو کے دو سجدے کر لے۔
(سنن دارقطني: 40/2، طبع دارالمعرفة)
درست رائے واضح نہ ہو سکے تو شک والی رکعت کو نظرانداز کر دے اور جتنی رکعات یقینی ہیں، انہیں شمار کرے اور یقین پر بنیاد رکھتے ہوئے بقیہ نماز پوری کرے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کسی کو دوران نماز میں شک پڑ جائے کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو شک کو نظر انداز کر دے اور یقین پر نماز کی بنیاد رکھے۔
پھر سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کرے۔
اگر اس نے پانچ رکعات پڑھی ہوں گی تو یہ سجدے چھٹی رکعت کے قائم مقام ہو جائیں گے۔
اور اگر اس نے پوری نماز (چار رکعت)
ہی پڑھی ہے تو یہ دو سجدے شیطان کی ذلت اور رسوائی کا باعث ہوں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1272(571)
اس کی مزید وضاحت ایک دوسری حدیث سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے علم نہ ہو کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اپنی نماز کو ایک رکعت ہی بنا لے۔
اور اگر اسے یہ علم نہ ہو کہ اس نے دو رکعت پڑھی ہیں یا تین تو وہ اپنی نماز کو دو رکعت ہی بنا لے۔
اور اگر اسے یہ علم نہ ہو کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار تو وہ اسے تین رکعت ہی بنا لے۔
پھر جب وہ نماز سے فراغت کے قریب ہو تو سلام پھیرنے سے قبل بیٹھے بیٹھے ہی سہو کے دو سجدے کرے۔
‘‘ (مسندأحمد: 190/1) (3)
دوران نماز میں شک پڑنے کی صورت میں شیخ محمد بن صالح عثیمین کی تحقیق حسب ذیل ہے: دو معاملات کے درمیان تردد کو شک کہتے ہیں کہ کون سا معاملہ واقع ہے۔
درج ذیل تین حالات میں شک کو کوئی اہمیت نہ دی جائے: ٭ دوران نماز میں محض وہم پیدا ہوا جس کی کوئی حقیقت نہ ہو، جیسا کہ وسوسہ وغیرہ ہوتا ہے۔
٭ جب نمازی کو بکثرت وہم کی بیماری لاحق ہوتی ہے کہ جب بھی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہم کا شکار ہو جاتا ہے۔
٭ عبادت سے فراغت کے بعد شک پڑ جائے تو اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی جائے جب تک اسے یقین نہ ہو جائے۔
ان تین صورتوں کے علاوہ اگر دوران نماز شک پڑ جائے تو وہ قابل اعتبار ہو گا اور اس کی دو حالتیں ممکن ہیں: ٭ نمازی کا رجحان ایک طرف ہو، اس صورت میں اپنے رجحان کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی نماز کو پورا کرے اور سلام پھیرے، پھر دو سہو کے سجدے کرے اور سلام پھیرے، مثلاً ایک نمازی کو نماز ظہر پڑھتے ہوئے شک پڑا کہ اس کی دوسری رکعت ہے یا تیسری لیکن رجحان تیسری رکعت کی طرف ہے تو اسے تیسری قرار دے کر اپنی نماز پوری کرے، یعنی چوتھی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے۔
اس کے بعد دو سہو کے سجدے کرے اور سلام پھیرے، جیسا کہ صحیح بخاری (حدیث: 401)
میں ہے۔
٭ اگر نمازی کا رجحان کسی جانب نہیں ہے تو وہ شک کو نظر انداز کر کے یقین پر بنیاد رکھے جو کہ کم رکعات پر بنیاد ہو گی۔
پھر نماز مکمل کر کے سلام سے قبل دو سہو کے سجدے ادا کرے اور سلام پھیر دے، مثلاً: ایک نمازی کو نماز عصر پڑھتے ہوئے شک گزرا کہ اس کی دوسری رکعت ہے یا تیسری لیکن اس کا رجحان کسی جانب نہیں تو کم رکعات پر بنیاد رکھے، یعنی اسے دوسری قرار دے کر پہلا تشہد پڑھے، اس کے بعد دو رکعات پڑھے، پھر سلام سے قبل سہو کے دو سجدے کرے اور سلام پھیر دے، جیسا کہ صحیح مسلم (حدیث: 1272 (571)
میں ہے۔
(سجودالسھو للشیخ محمد بن صالح العثیمین)
اس لیے اس بارے میں انسان مجبور ہے۔
پس جب نماز کے اندر شیطانی وساوس کی وجہ سے یہ نہ معلوم رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھ چکا ہوں تو یقین پر بنا رکھے، اگر اس کے فہم میں نماز پوری نہ ہو تو پوری کر کے سہو کے دو سجدے کر لے۔
(قسطلاني)
اگر کوئی نمازی شیطانی وساوس کی بنا پر اس قسم کی سوچ و بچار میں پڑ جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی بشرطیکہ نماز کا کوئی رکن ترک نہ ہو۔
اگر نماز کا کوئی رکن رہ جائے تو اس کا اعادہ ضروری ہے، اس کے ساتھ اسے سجدۂ سہو بھی کرنا ہو گا۔
(فتح الباري: 118/3)
(1)
أَحَالَ: بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
(2)
ضُرَاطٌ: گوز، بلند آواز سے دبر سے ہوا خارج کرنا ہے۔
فوائد ومسائل: اٰذان چونکہ دین حق کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، اس لیے اس کو آپﷺ نے دعوت نامہ (مکمل دعوت)
کا نام دیا ہے اور شیطان کو دین حق سے چڑ اور عناد ہے، اس لیے اس کا سننا ناگواری کا باعث ہے، اس لیے وہ تکبیر اور اذان دونوں کے سننے کا روادار نہیں اور اس کے لیے ان کا سننا انتہائی پریشانی اور اضطراب کا باعث ہے، اس پریشانی کے عالم میں بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور دور تک چلا جاتاہے۔
حُصَاص: گوز مارنا، یا تیز بھاگنا۔
بہر حال یہ استنباط ہے کوئی مسنون چیز نہیں ہے۔
(1)
ثُوِّبَ: تَثوِيب کا مقصد اقامت ہے، کیونکہ ثاب کا معنی لوٹنا ہوتا ہے۔
(2)
مؤذن: اذان کے بعد دوبارہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔
اس لیے تکبیر کو تثویب کہتے ہیں۔
(3)
يخطر: اگر طا پر زیر پڑھیں تو معنی ہو گا، وسوسہ ڈالنا، اگر طا پر پیش پڑھیں تو معنی ہو گا، گزرنا۔
یعنی انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے۔
تاکہ اس کو اصل مقصود سے، دوسری چیز میں مشغول کر دے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 516]
➊ بظاہر شیطان سے مراد ابلیس ہی ہے اور ممکن ہے کہ شیاطین الجن مراد ہوں۔
➋ زور سے اور آواز سے شیطان سے ریح کا خارج ہونا دلیل ہے کہ اذان کے مبارک کلمات میں وزن ہے۔
➌ اذان کے وقت شور کرنا شیطانی عمل کے ساتھ مشابہت ہے۔
➍ شیطان مسلمان نمازیوں پر بار بار حملے کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی علاج بیان فرمایا ہے کہ ایسی صورت میں تعوذ پڑھا جائے۔ اور بایئں طرف پھونک ماری جائے، خیال کیا جائے کہ بےنماز لوگوں پر اس کے حملے کتنے شدید ہوں گے۔
➎ اذان میں آواز خوب بلند کرنی چاہیے۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کا شعار ہے۔ لیکن آواز کی یہ بلندی اسی طرح اس حد تک ہو کہ اس میں کراہت اور بھدا پن پیدا نہ ہو کیونکہ رفع صوت کے ساتھ حسن صوت بھی مطلوب اور پسندیدہ ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1254]
➋ دیگر روایات میں اذان کے بعد واپسی اور پھر اقامت کے موقع پر بھاگنے کا بھی ذکر ہے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 608، و صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 287] یہ روایت مختصر ہے۔
«. . . 324- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”إذا نودي بالصلاة أدبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التأذين، فإذا قضي النداء أقبل، حتى إذا ثوب بالصلاة أدبر، حتى إذا قضي التثويب أقبل حتى يخطر بين المرء ونفسه، يقول له: اذكر كذا، اذكر كذا، لما لم يكن يذكر، حتى يظل الرجل أن يدري كم صلى .“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پاد مارتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے، پھر جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو (دوبارہ) آ جاتا ہے۔ اسی طرح جب نماز کے لئے اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے حتیٰ کہ انسان اور اس کے دل کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے۔ کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتی تھی حتیٰ کہ (وسوسوں کی وجہ سے) آدمی کو پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 76]
تفقه:
➊ انسانوں کی طرح شیطان کی ہوا بھی خارج ہوتی ہے اور اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔
➋ اذان اور نماز شیطان پر بہت بھاری ہے۔
➌ لوگوں کے دلوں میں شیطان وسوسے ڈالتا ہے بالخصوص دوران نماز میں لہٰذا جب ایسا معاملہ ہوجائے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں یعنی تعوذ پڑھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھتکار دیں۔ [صحيح مسلم: 2203، دارالسلام: 5738]
➎ فرض نماز کے لئے اذان دینا ضروری یا سنت مؤکدہ ہے۔
➏ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میت کے سوال جواب کے وقت شیطان اسے بہکانے کی کوشش کرتا ہے لہٰذا اس وقت اذان دینی چاہئے، لیکن اس خیال کا کوئی ثبوت سلف صالحین سے نہیں ہے۔
➐ بعض لوگ مصیبت ٹالنے کے لئے اذانیں دینا شروع کردیتے ہیں، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تاہم جنوں اور شیطانوں کو بھگانے کے لئے اذان دینا جائز ہے۔ دیکھئے [التمهيد 309/18، 310]
➑ باجماعت نماز کے لئے اقامت کہنا سنت مؤکدہ ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص نماز میں بھول جائے، وہ نماز کے آخر میں دو سجدے (سجدہ سہو) کرے، اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ شیطان نماز میں بھی انسان کو نہیں چھوڑتا، وہ ہر ممکن اپنی محنت کر رہا ہے، انسان کو ہمیشہ اپنی زبان پر ذکر الٰہی رکھنا چاہیے۔