حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ ، فَنَظَرُوا ، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے ، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے “ ، لوگوں نے دیکھا تو وہ ( واقعی ) بکریوں کا چرواہا نکلا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 666
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5251)، مسند احمد 4/336، وفي الیوم واللیلة 18 (38) (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´چرواہے کی اذان کا بیان۔`
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے ، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 666]
666۔ اردو حاشیہ: صحرا میں جہاں اذان کی آواز نہ سنائی دیتی ہو، وہاں کوئی اکیلا مسافر یا چرواہا نماز پڑھنا چاہے تو اذان کہے، البتہ اگر قریبی بستی کی اذان سنائی دیتی ہو تو وہ کافی ہے الگ اذان ضروری نہیں، نیز دیکھیے: [حديث: 645]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 666 سے ماخوذ ہے۔