سنن نسائي
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِقَامَةِ لِمَنْ نَسِيَ رَكْعَةً مَنْ صَلاَةٍ باب: ایک رکعت بھول جانے کے بعد اسے پڑھنے کے لیے اقامت کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً " . فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ ، فَقَالُوا لِي : أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ ؟ قُلْتُ : لَا ، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ ، فَمَرَّ بِي ، فَقُلْتُ : هَذَا هُوَ ، قَالُوا : هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ .
´معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی ، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا ، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا ، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں ، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی ، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا : کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو ؟ میں نے کہا : نہیں ، لیکن میں اسے دیکھ لوں ( تو پہچان لوں گا ) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا : یہ ہے وہ شخص ، تو لوگوں نے کہا : یہ طلحہ بن عبیداللہ ( رضی اللہ عنہ ) ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 665]
➋ احناف اس صورت میں نماز باطل ہونے اور نئے سرے سے ساری نماز پڑھنے کے قائل ہیں اور اس حدیث کو ابتدائی دور پر محمول کرتے ہیں مگر یہ بات بلادلیل ہے۔ واللہ أعلم۔
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو سلام پھیر دیا حالانکہ ایک رکعت نماز باقی رہ گئی تھی، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: آپ نماز میں ایک رکعت بھول گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے، مسجد کے اندر آئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تم اس شخص کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، البتہ اگر میں دیکھوں (تو پہچان لوں گا)، پھر وہی شخص میرے سامنے سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص تھا، لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1023]
جب لوگ صفوں سے آگے پیچھے ہو جائیں۔ اور بعد میں سہو کا علم ہو تو نماز اور صف بندی کے لئے تکبیر کہی جائے۔