سنن نسائي
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے احکام و مسائل
بَابُ : الاِكْتِفَاءِ بِالإِقَامَةِ لِكُلِّ صَلاَةٍ باب: ہر نماز کے لیے صرف اقامت پر اکتفاء کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ ، قال : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ ، وَالْعَصْرِ ، وَالْمَغْرِبِ ، وَالْعِشَاءِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا ، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا ، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا ، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا . ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم ایک غزوہ میں تھے ، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر ، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا ، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا ، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی ( پھر ) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی ، ( پھر ) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی ، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے ( اور ) فرمایا : ” روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا: ” روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 664]
➋ صحیح بخاری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صرف عصر کی نماز فوت ہونے کا ذکر ہے۔ [صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4111]
وہ الگ واقعہ ہو گا کیونکہ جنگ خندق کئی دن ہوتی رہی۔ واللہ أعلم۔