حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : وَلَيْسَ بِأَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الأذان / حدیث: 649
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، .649] إسناده ضعيف، أبو سلمان همام المؤذن مجهول الحال. وأبو جعفر مجهول ليس هو الفراء. والحديث السابق (634) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12170) (صحیح) ابوعبدالرحمن امام نسائی کہتے ہیں: ابو جعفر سے مراد ابو جعفر الفراء نہیں ہیں۔»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´فجر کی اذان میں تثویب یعنی «الصلاۃ خیر من النوم» کے کہنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی سفیان سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 649]
649۔ اردو حاشیہ: یہ حدیث اس بات کی صریح نص اور دلیل ہے کہ صبح کی اذان میں «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ» کہنے کا حکم آغاز میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے دیا تھا۔ اس کا انتساب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف کرنا محض جھوٹ اور افترا ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ واللہ أعلم۔ مزید تفصیل کے لیے اسی کتاب کا ابتدائیہ دیکھیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 649 سے ماخوذ ہے۔