سنن نسائي
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے احکام و مسائل
بَابُ : اجْتِزَاءِ الْمَرْءِ بِأَذَانِ غَيْرِهِ فِي الْحَضَرِ باب: حضر میں دوسرے کی اذان پر آدمی کے اکتفاء کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قال : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ، فَقَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ : هُوَ حَيٌّ أَفَلَا تَلْقَاهُ ؟ قال أَيُّوبُ : فَلَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : لَمَّا كَانَ وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ فَذَهَبَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا فَلَمَّا قَدِمَ اسْتَقْبَلْنَاهُ ، فَقَالَ : جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، فَقَالَ : " صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " .
´ایوب کہتے ہیں کہ` ابوقلابہ نے مجھ سے کہا کہ عمرو بن سلمہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے ، ( کہ براہ راست ان سے یہ حدیث سن لو ) تو میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ملا ، اور میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا : جب فتح ( مکہ ) کا واقعہ پیش آیا ، تو ہر قبیلہ نے اسلام لانے میں جلدی کی ، تو میرے باپ ( بھی ) اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گئے ، جب وہ ( واپس ) آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ، میں اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں ، انہوں نے فرمایا ہے : ” فلاں نماز فلاں وقت اس طرح پڑھو ، فلاں نماز فلاں وقت اس طرح ، اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے ، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایوب کہتے ہیں کہ ابوقلابہ نے مجھ سے کہا کہ عمرو بن سلمہ زندہ ہیں تم ان سے مل کیوں نہیں لیتے، (کہ براہ راست ان سے یہ حدیث سن لو) تو میں عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے ملا، اور میں نے ان سے جا کر پوچھا تو انہوں نے کہا: جب فتح (مکہ) کا واقعہ پیش آیا، تو ہر قبیلہ نے اسلام لانے میں جلدی کی، تو میرے باپ (بھی) اپنی قوم کے اسلام لانے کی خبر لے کر گئے، جب وہ (واپس) آئے تو ہم نے ان کا استقبال کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم، میں اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں، انہوں نے فرمایا ہے: ” فلاں نماز فلاں وقت اس طرح پڑھو، فلاں نماز فلاں وقت اس طرح، اور جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو وہ تمہاری امامت کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 637]