سنن نسائي
كتاب المواقيت— کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
بَابُ : كَيْفَ يُقْضَى الْفَائِتُ مِنَ الصَّلاَةِ باب: فوت شدہ نماز کی قضاء کیسے کی جائے؟
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَسْرَيْنَا لَيْلَةً ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ عَلَيْنَا ، " فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ ، ثُمَّ حَدَّثَنَا بِمَا هُوَ كَائِنٌ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
´ابومریم ( مالک بن ربیعہ ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے ، لوگ بھی سو گئے ، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے ، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی ، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی ، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابومریم (مالک بن ربیعہ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے جب صبح ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور سو رہے، لوگ بھی سو گئے، تو سورج کی دھوپ پڑنے ہی پر آپ جاگے، تو آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے اقامت کہی، اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر آپ نے قیامت قائم ہونے تک جو اہم چیزیں ہونے والی ہیں انہیں ہم سے بیان کیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 622]
➋ فجر کی سنتیں مؤکدہ ہیں، لہٰذا اگر رہ جائیں تو طلوع شمس سے پہلے یا بعد میں ان کی قضا دی جائے۔ اگر فرض اور سنتیں دونوں رہ گئے ہوں تو دونوں کی قضا دی جائے۔ اس طرح دیگر نمازوں کے نوافل یا سنن وغیرہ کی بھی وقت کے بعد قضا دی جا سکتی ہے، خواہ سونے کی وجہ سے رہ جائیں یا بھولنے سے جیسا کہ احادیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے، رہی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مسند احمد والی حدیث جس میں قضا دینے سے روکا گیا ہے تو وہ سنداً ضعیف ہے۔ واللہ أعلم۔